TELEM: اسرائیل کا تعلیمی نظام یا عسکری تربیت گاہ؟

اسرائیلی ریاست اپنے سیکیورٹی نظریے میں ہمیشہ سے پیشگی حکمتِ عملی (preemptive doctrine) پر یقین رکھتی ہے، جہاں روایتی میدانِ جنگ سے ہٹ کر اب نظریاتی و لسانی محاذوں کو بھی عسکری تزویرات (strategic imperatives) کا حصہ بنا دیا گیا ہے۔ اس تناظر میں اسرائیلی انٹیلیجنس ادارے ’آمان‘ کی جانب سے TELEM پروگرام کی بحالی محض ایک تربیتی قدم نہیں بلکہ ایک نرم نظریاتی قبضے (soft ideological occupation) کی تیاری ہے، جس کے اثرات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ وسیع تر اسلامی دنیا پر مرتب ہونے والے ہیں۔

TELEM — جسے ایک “فوجی تعلیمی پروگرام” قرار دیا جا رہا ہے — دراصل ایک ہائبرڈ تعلیمی و انٹیلیجنس ماڈل ہے، جو عربی زبان، اسلامیات، ثقافتی انڈراسٹینڈنگ، اور مذہبی بیانیے کے داخلی ڈھانچے کو سمجھنے کے نام پر اسرائیلی فوجی افسران کو “علم کی آڑ میں ذہنی برتری (cognitive supremacy)” دینے کی ایک باقاعدہ اسکیم ہے۔

یہ پروگرام عربی زبان کی محض تدریس نہیں، بلکہ قرآنی اصطلاحات، احادیثِ نبوی، اسلامی سیاسی تحریکات، فقہی مکاتبِ فکر، اور مشرقِ وسطیٰ کی سماجی ساخت کو فوجی و انٹیلیجنس مفادات کے تناظر میں پڑھانے کا منصوبہ ہے۔ یہاں علم کا مقصد فہم نہیں، بلکہ تسلط ہے۔

اس پروگرام کی بحالی ایک ایسے وقت میں کی جا رہی ہے جب اسرائیل خطے میں نہ صرف حماس، حزب اللہ، اور ایرانی مزاحمتی محور سے برسرِ پیکار ہے بلکہ عالمی سطح پر اپنی امیج پولشنگ، عرب ریاستوں سے معمولاتِ تعلقات (normalisation) اور مسلم سوسائٹیوں میں فکری انتشار (ideological fragmentation) پیدا کرنے کی کوششیں بھی شدت اختیار کر چکی ہیں۔

2026 تک، TELEM کے تحت تمام انٹیلیجنس افسران کو اسلامیات کی باضابطہ تربیت دینا اور 50 فیصد سے زائد کو عربی زبان سکھانا اسرائیل کی ایک گہری حکمتِ عملی کا ثبوت ہے — جس میں عسکری فتح سے پہلے ذہنی، تہذیبی اور اعتقادی میدان میں داخل ہو کر دشمن کی روحانی اساس کو کمزور کرنا بنیادی ہدف ہے۔

مگر اس سب کے پس پردہ اصل سوال یہ ہے: کیا یہ محض ایک تعلیمی پروگرام ہے؟

جواب نفی میں ہے۔ TELEM کے پس منظر میں کئی ایسی ممکنہ عالمی و علاقائی سازشیں کارفرما ہیں جو آج نہیں تو کل، مشرقِ وسطیٰ اور مسلم دنیا کی فکری آزادی کے لیے ایک بڑا خطرہ بن سکتی ہیں۔ اس پروگرام کے ذریعے اسرائیلی انٹیلیجنس مستقبل کے لیے ایک ایسی فوج تیار کر رہی ہے جو محض جنگی نہیں، بلکہ ثقافتی، مذہبی اور لسانی ماسک پہن کر سوسائٹیز میں گھسنے، رائے عامہ کو shape کرنے اور بیانیہ تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

TELEM پروگرام کے اندر ایسے نکات شامل ہیں جو عرب دنیا میں فرقہ واریت کو ایک آلہ کار کے طور پر استعمال کرنے کی گنجائش فراہم کرتے ہیں۔ اہل سنت و اہل تشیع کے درمیان موجود تاریخی و فقہی تناؤ کو اس پروگرام کے ذریعے تجزیاتی علم نہیں، بلکہ نفسیاتی ہتھیار بنایا جا رہا ہے، تاکہ اسرائیل داخلی مسلم وحدت کو توڑ سکے اور فرقہ وارانہ شناختوں کو عسکری و سیاسی کمزوری میں بدل سکے۔

ایک اور خطرناک پہلو یہ ہے کہ TELEM کے تحت اسرائیلی افسران “اسلامی لسانیات” اور “عباراتی ذہن سازی” (semantic influence) کے ماہر بن رہے ہیں۔ یہ افسران مذہبی اصطلاحات جیسے ’جہاد‘، ’خلافت‘، ’شہادت‘، ’ظلم‘، اور ’امت‘ جیسے الفاظ کو اس قدر ہنر مندی سے manipulate کرنے کی تربیت پا رہے ہیں کہ وہ مسلم عوام میں شکوک، افراط و تفریط اور فکری بے سمتی پیدا کر سکیں۔

مزید یہ کہ مستقبل میں TELEM پروگرام کے ذریعے ایسے افراد پیدا کیے جا سکتے ہیں جو مختلف مسلم ممالک میں بطور اسکالر، تجزیہ نگار، تھنک ٹینک ماہر، اور ثقافتی نمائندے کے روپ میں infiltrate کریں — اور اسلامی شعور کو soft sabotage کا نشانہ بنائیں۔

یہ ایک “Neo-Orientalism” کا عملی مظہر ہے، جس میں استعماری طاقتیں اب صرف سامراجی طاقت سے نہیں بلکہ فکری استعمار کے ذریعے مسلم ذہنوں پر کنٹرول حاصل کرنا چاہتی ہیں۔ اس کا ہدف صرف نظریات نہیں بلکہ “تشخص” (identity) ہے۔ جب کوئی قوم اپنی زبان، مذہب، تاریخ اور عقائد کے حوالے سے بے یقینی کا شکار ہو جائے، تو وہ دشمن کا شکار بننے کے لیے خود کو بے دفاع کر دیتی ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا مسلم دنیا، خاص طور پر عرب ریاستیں، ایران، ترکی، پاکستان اور دیگر اسلامی ممالک، اس فکری حملے کا توڑ کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کریں گے؟ کیا ہمارے تعلیمی نظام، مذہبی ادارے اور تھنک ٹینکس اس گہرے حملے کی علمی سطح پر مزاحمت کے لیے تیار ہیں؟ یا ہم صرف نعرہ بازی اور جذباتی ردِ عمل تک محدود رہیں گے؟

TELEM کی بحالی، دراصل عالمِ اسلام کے خلاف ایک ایسی خاموش مگر گہری چال ہے، جس کا شکار وہی معاشرے ہوں گے جو اپنی فکری اساس کو وقت کے تقاضوں کے مطابق علمی بنیاد پر اپڈیٹ نہیں کر پاتے۔

آج TELEM ہمیں بتا رہا ہے کہ جنگ بارود سے نہیں، بیانیے سے جیتی جاتی ہے۔ اور اگر بیانیہ دشمن کے ہاتھ چلا جائے تو توپوں، میزائلوں، اور ڈرونز کی طاقت بھی قوموں کو شکست سے نہیں بچا سکتی۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں