مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر بارود کے ڈھیر پر کھڑا ہے۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی اب محض بیانات یا پراکسی جنگوں تک محدود نہیں رہی بلکہ براہِ راست میزائلوں اور فضائی حملوں کی صورت اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہے۔ دنیا کی نظریں اس وقت اس سوال پر جمی ہوئی ہیں کہ اگر یہ جنگ لمبی چلتی ہے تو اس کا انجام کیا ہوگا اور کس کا پلہ بھاری رہے گا؟
ایران نے حالیہ دنوں میں اسرائیل کے بڑے شہروں، خصوصاً تل ابیب اور حیفہ کو میزائلوں سے نشانہ بنانے کی کوشش کی۔ اسرائیلی دفاعی نظام نے زیادہ تر میزائلوں کو فضا میں تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے، مگر اس کے باوجود چند میزائل شہر کے مختلف حصوں میں گرے اور عمارتوں کو نقصان پہنچا۔ یہ نقصان شاید جنگی پیمانے پر بہت بڑا نہ ہو، لیکن اس نے اسرائیلی معاشرے کے اندر ایک نفسیاتی لرزش ضرور پیدا کر دی ہے۔
اسرائیل کی طاقت کا بڑا سہارا اس کا جدید دفاعی نظام ہے۔ Iron Dome، David’s Sling اور Arrow جیسے میزائل دفاعی نظام دنیا کے جدید ترین نظاموں میں شمار ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب تک اسرائیل اپنے بڑے شہروں کو مکمل تباہی سے بچانے میں کامیاب رہا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر حملے چند گھنٹوں یا چند دنوں کے بجائے ہفتوں تک جاری رہیں تو کیا یہ نظام اسی کارکردگی کے ساتھ کام کرتے رہیں گے؟
یہاں اصل امتحان اسرائیل کی معیشت اور سماجی ڈھانچے کا ہوگا۔ تل ابیب سٹاک اکسچینج نہ صرف اسرائیل بلکہ پورے خطے کی ایک اہم مالیاتی منڈی ہے۔ مسلسل میزائل حملوں کی صورت میں اسٹاک مارکیٹ میں شدید اتار چڑھاؤ آ سکتا ہے، سرمایہ کار اپنا سرمایہ نکال سکتے ہیں اور ٹیکنالوجی کمپنیاں، جو اسرائیلی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھی جاتی ہیں، عارضی طور پر اپنے دفاتر بند کرنے پر مجبور ہو سکتی ہیں۔
جنگ صرف عمارتوں کو نہیں گراتی، یہ معاشروں کے اعتماد کو بھی ہلا دیتی ہے۔ اسرائیل کی ایک بڑی آبادی ایسی ہے جس کے پاس دوہری شہریت ہے۔ اگر خطرہ طویل ہو جائے تو ہزاروں لوگ عارضی طور پر یورپ یا امریکا کا رخ کر سکتے ہیں۔ سیاحت رک سکتی ہے، پروازیں پہلے ہی محدود ہو چکی ہیں اور شہروں کی روزمرہ زندگی زیرِ زمین پناہ گاہوں میں منتقل ہو چکی ہے۔
لیکن اس جنگ کا ایک اور پہلو بھی ہے۔ اگر ایران اکیلا نہ رہے اور خطے کے اس کے اتحادی بھی میدان میں آ جائیں تو صورتحال یکسر مختلف ہو سکتی ہے۔ لبنان کی تنظیم حزب اللہ کے بارے میں اندازہ لگایا جاتا ہے کہ اس کے پاس بڑی تعداد میں راکٹ اور میزائل موجود ہیں۔ اگر شمال سے حزب اللہ اور مشرق سے ایران دباؤ ڈالیں تو اسرائیل کو بیک وقت کئی محاذوں پر دفاع کرنا پڑ سکتا ہے۔
اس کے باوجود حقیقت یہ ہے کہ اسرائیل تنہا نہیں ہے۔ اس کے پیچھے امریکہ کی عسکری اور سیاسی طاقت موجود ہے۔ جدید ٹیکنالوجی، فضائی برتری اور عالمی سفارتی حمایت اسرائیل کو ایک مضبوط پشت پناہی فراہم کرتی ہے۔ اسی لیے بیشتر تجزیہ کاروں کے نزدیک ایران کے لیے اسرائیل کو مکمل طور پر شکست دینا آسان نہیں ہوگا۔
اصل خطرہ کسی ایک فریق کی فتح یا شکست نہیں بلکہ جنگ کا پھیل جانا ہے۔ اگر یہ تصادم وسیع تر علاقائی جنگ میں بدل گیا تو اس کے اثرات صرف اسرائیل اور ایران تک محدود نہیں رہیں گے۔ خلیج کی تیل کی گزرگاہیں، عالمی معیشت اور مشرقِ وسطیٰ کا سیاسی توازن سب اس کی لپیٹ میں آ سکتے ہیں۔
یوں محسوس ہوتا ہے کہ اس جنگ میں میزائلوں سے زیادہ خطرناک چیز خوف ہے۔ خوف جو معیشتوں کو ہلا دیتا ہے، شہروں کو خالی کرا دیتا ہے اور قوموں کو مسلسل عدم تحفظ کے احساس میں مبتلا کر دیتا ہے۔فتح یا شکست کا فیصلہ محض فریقین کی حکومتوں کے درمیان نہیں ہوتا بلکہ اس میں عوام بھی شامل ہوتے ہیں۔ خوف اور ڈر کے سائے میں لمحہ لمحہ جیتے مرتے عوام جنگ میں اصل فریق ہوتے ہیں ۔ یہ جنگ کون جیتتا ہے اور کون ہارتا ہے اس کا فیصلہ جو بھی ہو متاثرہ ممالک کے عوام ایک طویل عرصہ اس ہیجانی صورتحال کو محسوس کرتے رہیں گے۔