تین دہائیوں میں پہلی بار ایران کے دارالحکومت تہران میں قائداعظم محمد علی جناح کے پوسٹرز آویزاں کیے گئے۔ یہ اقدام اقتصادی تعاون تنظیم (ای سی او) کے کلچرل انسٹی ٹیوٹ (ای سی آئی) کی یادگاری تقریبات کے موقع پر پاکستان سے اظہار یکجہتی کے طور پر کیا گیا۔
ای سی آئی نے اردو لینگویج اسٹوڈنٹ یونین آف ایران اور تہران میں پاکستانی سفارت خانے کے تعاون سے یہ تقریبات منعقد کیں۔ ای سی آئی کے صدر ڈاکٹر سعد ایس خان، جو پاکستانی مورخ اور کئی کتابوں کے مصنف ہیں، نے اپنے خطاب میں قائداعظم کی دوراندیش قیادت اور مسلم برادری کے اتحاد و آزادی میں ان کے کلیدی کردار کو اجاگر کیا۔
انہوں نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنائی کے قائداعظم سے متعلق مثبت خیالات کا حوالہ دیتے ہوئے یقین محکم اور پختہ عزم کو جناح کی پائیدار میراث قرار دیا۔
تقریب کے مہمانِ خصوصی پاکستان کے ڈپٹی ہیڈ آف مشن عصمت حسن سیال تھے، جبکہ نائجر کے سفیر سیدو زاتا علی، تاجکستان مشن کے نائب سربراہ، اور تہران یونیورسٹی کے پاکستان اسٹڈیز چیئر کے سربراہ ڈاکٹر زاہد منیر عامر سمیت کئی نمایاں اسکالرز اور ماہرین نے بھی شرکت کی۔
تقریبات میں اردو، ترکش، اور فارسی مضامین کے مقابلوں کے ساتھ حب الوطنی کے نغموں کی پرفارمنس، قائداعظم کی لائیو اسکیچنگ، اور اقبال کے فلسفے پر ایک دستاویزی فلم کی رونمائی بھی شامل تھی۔
یہ تقریبات پاکستان اور ایران کے درمیان ثقافتی تعلقات کو مزید فروغ دینے اور قائداعظم کی شخصیت کو نوجوان نسل تک پہنچانے کا اہم ذریعہ ثابت ہوئیں۔