پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (پی ایم اے) نے پیر کے روز فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو ایک خط لکھ کر مؤقف اختیار کیا ہے کہ طبی خدمات پر ٹیکس مریضوں پر اضافی بوجھ ڈالے گا، ان کی رازداری کو متاثر کرے گا اور برین ڈرین یعنی ملک سے ماہر ڈاکٹروں کی بیرونِ ملک منتقلی میں مزید اضافہ کرے گا۔
پی ایم اے نے مطالبہ کیا ہے کہ ڈاکٹروں، ڈینٹسٹس، فزیوتھراپسٹس، لیبارٹریوں، ڈائیگناسٹک سینٹرز، نجی ہسپتالوں اور دیگر طبی مراکز سمیت تمام طبی خدمات فراہم کرنے والوں کو پوائنٹ آف سیل(پو او ایس) یا الیکٹرانک انوائسنگ کے دائرہ کار سے فوری طور پر خارج کیا جائے۔ تنظیم نے یہ بھی زور دیا کہ صحت جیسے بنیادی شعبے پر اثرانداز ہونے والے کسی بھی ریگولیٹری فریم ورک کے نفاذ سے پہلے متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے بامعنی مشاورت کی جائے۔
پی ایم اے کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر عبدالغفور شورو کی جانب سے چیئرمین ایف بی آر کو بھیجے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ 18 فروری 2026 کے نوٹیفکیشن کے تحت طبی خدمات فراہم کرنے والوں کو لازمی پی او ایس یا الیکٹرانک انوائسنگ نظام میں شامل کرنا آئین کے منافی ہے۔ خط میں مؤقف اپنایا گیا کہ موجودہ مالیاتی قوانین کے تحت طبی مشاورت، ہسپتال میں داخلہ اور تشخیصی خدمات سیلز ٹیکس کے زمرے میں نہیں آتیں، جبکہ پی اوا یس دراصل قابلِ ٹیکس اشیا اور خدمات کی نگرانی کا نظام ہے۔ ایسے میں غیر ٹیکس شدہ اور بنیادی نوعیت کی خدمات پر اس کا اطلاق قانونی طور پر غیر موزوں قرار دیا گیا ہے۔
خط میں کہا گیا کہ صحت کی سہولیات آئین کے آرٹیکل 9 کے تحت زندگی کے بنیادی حق سے براہِ راست جڑی ہوئی ہیں۔ کسی بھی ایسے ضابطے سے جو ہسپتالوں اور کلینکس کے انتظامی اخراجات یا قانونی پیچیدگیوں میں اضافہ کرے، اس کا مالی بوجھ بالآخر مریضوں، خصوصا غریب اور کم آمدنی والے افراد پر منتقل ہوگا۔ پی ایم اے کے مطابق ضروری طبی خدمات پر اضافی تعمیل کا بوجھ ڈالنا درحقیقت صحت تک رسائی کو محدود کرنے کے مترادف ہے، جو آئینی طور پر قابلِ اعتراض ہے۔
خط کی نقول وفاقی وزیرِ خزانہ، وزیرِ صحت، سیکریٹری ریونیو ڈویژن اور متعلقہ پارلیمانی کمیٹیوں کو بھی ارسال کی گئی ہیں۔ پی ایم اے نے یہ اعتراض بھی اٹھایا کہ اس نوٹیفکیشن میں صرف طبی شعبے کو نشانہ بنایا گیا ہے جبکہ وکلا اور دیگر پیشہ ورانہ خدمات فراہم کرنے والے افراد کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ تنظیم کے مطابق پیشہ ورانہ خدمات تجارتی ریٹیل لین دین کی نوعیت کی نہیں ہوتیں، اس لیے صرف صحت کے شعبے کو پی او ایس نظام میں شامل کرنا امتیازی سلوک کے زمرے میں آتا ہے اور آئین کے آرٹیکل 25 کی خلاف ورزی ہے۔
پی ایم اے نے رازداری کے مسئلے کو بھی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ طبی خدمات میں حساس ذاتی اور میڈیکل معلومات شامل ہوتی ہیں۔ مرکزی نظام سے لازمی اور فوری الیکٹرانک انضمام سے مریضوں کے ڈیٹا کے تحفظ اور پرائیویسی کے حوالے سے سنگین خدشات جنم لیتے ہیں، جبکہ میڈیکل ریکارڈز اخلاقی ضوابط، قانونی قواعد اور بین الاقوامی اصولوں کے تحت محفوظ تصور کیے جاتے ہیں۔
مزید برآں خط میں کہا گیا کہ ڈاکٹرز اور ہسپتال پہلے ہی صوبائی ہیلتھ کیئر کمیشنز کے قوانین، پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کے فریم ورک اور انکم ٹیکس آرڈیننس کے تحت ریگولیٹ ہوتے ہیں۔ ایسے میں ایک اور پی او ایس بنیاد پر نافذ کردہ نظام لانا ضابطہ جاتی تکرار کے مترادف ہے جس کی کوئی واضح مالی ضرورت ثابت نہیں کی گئی۔
پی ایم اے کے مطابق اضافی تعمیل کے اخراجات مشاورت کی فیس، ٹیسٹوں کے چارجز اور ہسپتال کے اخراجات میں اضافے کا سبب بنیں گے، جس کا سب سے زیادہ اثر کم آمدنی والے مریضوں، دیہی آبادی، دائمی امراض میں مبتلا افراد اور ایمرجنسی کیسز پر پڑے گا، اور یہ صورتحال ریاست کی اس ذمہ داری کے برعکس ہوگی جس کے تحت سب کو مساوی بنیادوں پر صحت کی سہولیات فراہم کرنا لازم ہے۔