ازبکستان کے دارالحکومت تاشقند میں واقع علی شیر نوائی سینما پیلس میں بھارتی فلم فیسٹیول منعقد ہوا جو بھارتی سفارتخانے، وزارت اطلاعات و نشریاتِ بھارت اور ازبکستان کی وزارت ثقافت کے تحت کام کرنے والی سینماٹوگرافی ایجنسی کے تعاون سے منعقد کیا گیا۔ اس ایونٹ میں ازبکستان اور بھارتی فلمی صنعت کے نمائندوں کے ساتھ سینما کے شوقین افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ افتتاحی تقریب میں بھارت کی سفیر سمیتا پنت اور ازبک سینماٹوگرافی ایجنسی کے ڈائریکٹر شوخرات رضائیوف نے دونوں ممالک کے درمیان دوستانہ تعلقات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ فلمی صنعت کے فروغ میں یہ رشتہ مزید مستحکم ہوتا جا رہا ہے۔
فیسٹیول میں خواتین کی زندگیوں پر مبنی فلمیں دکھائی گئی ہیں، جن میں “گھومر”، “انگلش ونگلش”، “اردھانگنی” اور “امّا کنکّو” شامل تھیں۔ ان فلموں کے ذریعے خواتین کے مثبت کردار اور ان کے معاشرتی اثرات کو اجاگر کیا گیا ہے۔ تقریب میں بھارتی فلمی دنیا کی مشہور شخصیات ابھیشیک بچن، گوری شندے، سیامی کھیر اور آر بالکرشنن نے بھی شرکت کی، جنہوں نے ازبکستان اور بھارت کے درمیان سینما کے شعبے میں مشترکہ منصوبوں کے امکانات پر بات کی۔
ابھیشیک بچن نے اس موقع پر جذباتی انداز میں کہا: “میں بھارتی سفارتخانے کا شکر گزار ہوں کہ اس نے اتنے شاندار فیسٹیول کا انعقاد کیا۔ میں چالیس سال قبل اپنے والدین کے ساتھ ایک فلم فیسٹیول کے سلسلے میں تاشقند آیا تھا اور آج یہاں واپس آ کر بے حد خوشی محسوس کر رہا ہوں۔ ازبکستان اور بھارت کے ثقافتی تعلقات ہمیشہ سے مضبوط رہے ہیں، اور میں امید کرتا ہوں کہ ہمارا تعاون مزید فروغ پائے گا۔ عالمی سینما تیزی سے ترقی کر رہا ہے اور ازبک فلم انڈسٹری کے لیے بھی بین الاقوامی سطح پر نمایاں ہونے کا بہترین موقع ہے۔ میرا ہمیشہ سے خواب رہا ہے کہ میں ازبکستان میں فلمیں بناؤں اور یہاں کے سینما کو بھارتی ناظرین کے سامنے متعارف کراؤں۔ خواتین کے احترام کا موضوع میرے لیے بے حد اہم ہے۔ یہ فیسٹیول یومِ خواتین کے موقع پر منعقد ہوا، لیکن خواتین کو صرف خاص دنوں پر نہیں، بلکہ ہر روز عزت دی جانی چاہیے۔ وہ ہماری زندگی کا ایک لازمی حصہ ہیں، اور ہمیں ان کی عزت اور قدر کرنی چاہیے۔ میرے والد مسلسل مجھ سے رابطے میں ہیں اور بےتابی سے یہ جاننا چاہتے ہیں کہ یہاں ہر لمحے کیا ہو رہا ہے۔ میں آپ سب کی محبت اور احترام کے لیے دل سے شکر گزار ہوں۔”
اسی تقریب میں فلم “انگلش ونگلش” کی ہدایتکارہ گوری شندے نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ “یہ فلمی میلہ میرے لیے باعثِ فخر ہے کیونکہ یہ خواتین کے لیے وقف کیا گیا ہے۔ وہ فلمیں جن میں خواتین مرکزی کردار میں ہوتی ہیں، آج کل زیادہ مقبول ہو رہی ہیں، اور یہ ایک خوش آئند تبدیلی ہے۔ عزتِ نفس سب سے قیمتی چیز ہے، اور یہی وجہ ہے کہ یہ فلم دنیا بھر میں شائقین کے دلوں کو چھو گئی۔ میں اس فلم کے ذریعے یہ دکھانا چاہتی تھی کہ ایک عورت کا کردار صرف گھر اور باورچی خانے تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔”
اس فلم فیسٹیول نے نہ صرف بھارتی اور ازبک سینما کے درمیان تعاون کو فروغ دیا، بلکہ خواتین کے معاشرتی کردار کو اجاگر کرنے کا بھی ایک بہترین موقع فراہم کی کیا ہے۔