تاشقند: ازبکستان کے دارالحکومت تاشقند نے 2029 میں ہونے والے چوتھے ایشیائی یوتھ گیمز کی میزبانی کے حقوق حاصل کر لیے ہیں۔ یہ فیصلہ ازبکستان کے لیے کھیلوں کے شعبے میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے، جس سے ملک وسطی ایشیا میں ایک ابھرتا ہوا اسپورٹس حب بننے کی راہ پر گامزن ہے۔
اولمپک کونسل آف ایشیا (او سی اے) کی جانب سے کیے گئے اعلان کے مطابق تاشقند کو ابتدائی طور پر 2025 کے کھیلوں کی میزبانی کے لیے منتخب کیا گیا تھا، تاہم اس وقت ضروری اسپورٹس انفراسٹرکچر مکمل نہ ہونے کے باعث ایونٹ مؤخر کر دیا گیا۔ اب 2029 کے لیے میزبانی ملنے سے ازبکستان کو جدید معیار کے مطابق مکمل تیاری کا موقع مل گیا ہے۔
ازبک حکومت نے حالیہ برسوں میں کھیلوں کے فروغ اور سیاحت کے شعبے میں نمایاں سرمایہ کاری کی ہے۔ توقع ہے کہ ایشیائی یوتھ گیمز نہ صرف تاشقند کے کھیلوں کے ڈھانچے کو مضبوط کریں گے بلکہ عالمی سطح پر ازبکستان کی سیاحتی و ثقافتی پہچان کو بھی نمایاں بنائیں گے۔
تاشقند میں ان کھیلوں کے دوران ہزاروں کھلاڑی، آفیشلز، تماشائی اور بین الاقوامی سیاح شریک ہوں گے، جس سے شہر میں معاشی سرگرمیوں اور سیاحت کو بڑا فروغ ملنے کی توقع ہے۔ مقامی ہوٹلوں، سفری سہولیات اور سروس سیکٹر کو اس موقع سے خاطر خواہ فائدہ پہنچے گا۔
ازبکستان نے حالیہ برسوں میں نوجوانوں کو کھیلوں کی سرگرمیوں میں شامل کرنے اور بین الاقوامی سطح پر کھیلوں کے ذریعے روابط بڑھانے پر خاص توجہ دی ہے۔ 2029 کے گیمز اسی وژن کا تسلسل ہیں جو ازبکستان کو خطے میں کھیلوں کے مرکز کے طور پر ابھارنے میں مدد دیں گے۔
تاشقند میں نئے اسٹیڈیم، تربیتی مراکز اور اولمپک ولیج کی تعمیر جاری ہے، جو نہ صرف ان مقابلوں کے دوران استعمال ہوں گے بلکہ مستقبل کے کھیلوں کے ایونٹس کے لیے بھی کارآمد رہیں گے۔
ماہرین کے مطابق ایشیائی یوتھ گیمز کی میزبانی سے ازبکستان کو عالمی اسپورٹس نقشے پر نمایاں مقام حاصل ہوگا۔ ساتھ ہی غیر ملکی سیاح تاشقند کی تاریخی عمارتوں، جدید طرزِ زندگی اور سلک روڈ کے ورثے سے لطف اندوز ہو سکیں گے۔
حکام کے مطابق تاشقند کی یہ کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ ازبکستان کھیلوں، ثقافت اور سیاحت کے میدان میں تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ 2029 کے ایشیائی یوتھ گیمز اس ترقی کی نئی علامت ہوں گے، جن کے ذریعے تاشقند کو خطے کے ایک نمایاں بین الاقوامی اسپورٹس مقام کے طور پر تسلیم کیا جائے گا