دو تہائی اکثریت کے ساتھ طارق رحمان بنگلہ دیش کے وزیر اعظم بن گئے، عہدے کا حلف اٹھا لیا

بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی کے چیئرمین طارق رحمان نے منگل کے روز بنگلہ دیش کے وزیرِاعظم کے عہدے کا حلف اٹھا لیا۔ان کی جماعت نے حالیہ پارلیمانی انتخابات میں دو تہائی اکثریت حاصل کی۔

60 سالہ طارق رحمان سابق وزیرِاعظم خالدہ ضیاءکے بیٹے ہیں، جبکہ ان کے والد ضیاء الرحمن ملک کے سابق صدر تھے ۔

حلف برداری کی تقریب روایتی مقام کے بجائے پارلیمنٹ ہاؤس کے ساؤتھ پلازہ میں کھلے آسمان تلے منعقد ہوئی۔ صدر محمدشہاب الدین نے نئے وزیرِاعظم اور کابینہ سے حلف لیا۔ تقریب میں چین، بھارت اور پاکستان سمیت مختلف ممالک کے نمائندے بھی شریک تھے۔

بی این پی تقریبا دو دہائیوں بعد 212 نشستوں کے ساتھ دوبارہ اقتدار میں آئی ہے۔ جماعتِ اسلامی نے بھی 2013 کی پابندی ختم ہونے کے بعد پہلی بار انتخابات میں حصہ لیا اور 68 نشستیں حاصل کیں۔ سابق وزیرِاعظم شیخ حسینہ کی جماعت عوامی لیگ کو الیکشن کمیشن نے رجسٹریشن منسوخ ہونے کے بعد انتخابات میں حصہ لینے سے روک دیا تھا۔

طارق رحمان گزشتہ سال 17 سالہ جلاوطنی ختم کرکے لندن سے وطن واپس آئے تھے۔

اپنے پہلے خطاب میں انہوں نے امن و امان برقرار رکھنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کسی قسم کی بدامنی برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کارکنوں سے انتقامی کارروائیوں سے گریز کی اپیل بھی کی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق نئی حکومت کو سیاسی استحکام بحال کرنے، سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنے اور گارمنٹس سمیت اہم صنعتوں کو دوبارہ فعال بنانے جیسے بڑے چیلنجز کا سامنا ہے۔ تاہم ووٹنگ کے دن مجموعی طور پر امن رہا اور نتائج کے بعد ملک میں صورتحال نسبتا پرسکون ہے۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں