انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے سیکیورٹی خدشات کے باعث بھارت جانے سے انکار کرنے پر بنگلہ دیش کو ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 سے باہر کر کے اس کی جگہ اسکاٹ لینڈ کو شامل کر لیا ہے۔ یہ فیصلہ تقریباً تین ہفتوں تک بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) سے ہونے والے مذاکرات کے بعد کیا گیا۔
آئی سی سی نے ای میل کے ذریعے اپنے بورڈ ارکان کو آگاہ کیا کہ بنگلہ دیش موجودہ شیڈول کے مطابق بھارت میں میچ کھیلنے پر آمادہ نہیں، اس لیے بورڈ کے فیصلے کے تحت اسے ٹورنامنٹ سے تبدیل کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق بی سی بی کو جمعہ کی شام اس فیصلے سے باقاعدہ طور پر آگاہ کر دیا گیا تھا۔ بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے آئی سی سی کو بتایا کہ حکومت نے ٹیم کو بھارت جانے کی اجازت نہیں دی۔ بی سی بی نے معاملہ آئی سی سی کی تنازعاتی کمیٹی میں لے جانے کا بھی عندیہ دیا، تاہم قواعد کے مطابق بورڈ کے فیصلے کے خلاف اپیل کی گنجائش محدود ہے۔
آئی سی سی بورڈ نے بدھ کو ہنگامی اجلاس میں واضح اکثریت سے فیصلہ کیا تھا کہ اگر بنگلہ دیش بھارت میں کھیلنے پر رضامند نہ ہوا تو اس کی جگہ کسی اور ٹیم کو شامل کیا جائے گا۔ آئی سی سی کا کہنا ہے کہ ٹورنامنٹ کے آغاز میں کم وقت باقی ہونے کی وجہ سے شیڈول میں تبدیلی ممکن نہیں اور بغیر کسی مستند سیکیورٹی خطرے کے تبدیلی مستقبل کے ایونٹس کے لیے خطرناک مثال بن سکتی ہے۔
بنگلہ دیش گروپ سی میں شامل تھا اور اسے کولکتہ اور ممبئی میں میچ کھیلنا تھے، جو اب اسکاٹ لینڈ کھیلے گا۔ بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے صدر امین الاسلام نے آئی سی سی پر دوہرے معیار اپنانے کا الزام عائد کیا ہے۔
سیکیورٹی خدشات کا معاملہ اس وقت سامنے آیا تھا جب بھارتی کرکٹ بورڈ نے بنگلہ دیشی کھلاڑی کو آئی پی ایل اسکواڈ سے ریلیز کرنے کی ہدایت دی تھی۔ آئی سی سی نے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایک کھلاڑی کے معاملے کو عالمی ٹورنامنٹ کی سیکیورٹی سے جوڑنا درست نہیں