شامی عبوری حکومت: خواتین کے لباس پر پابندی نہ لگانے کا عزم

شام میں بشار الاسد کے اقتدار کے خاتمے کے بعد بننے والی عبوری حکومت نے شخصی آزادی کو اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے خواتین کے لباس یا ظاہری شکل پر کوئی پابندی عائد نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق، عبوری حکومت کی جنرل کمان نے ایک بیان میں کہا کہ

” خواتین کے لباس میں مداخلت یا اس پر پابندی سختی سے منع ہے، اور ہر شخص کو آزادی حاصل ہے جو شائستگی اور اخلاقی اقدار کے مطابق ہو”۔

عبوری انتظامیہ نے کہا کہ افراد کے حقوق کا احترام اور آزادی کا تحفظ ہی ایک مہذب اور ترقی پسند معاشرے کی بنیاد ہے۔

خواتین اور سماجی روایات

2011 میں شام میں خانہ جنگی کے دوران، حزب اختلاف کے زیرِ اثر علاقوں میں خواتین عمومی طور پر مذہبی لباس پہنتی تھیں، جس میں پورا جسم ڈھکا ہوتا تھا سوائے چہرے اور ہاتھوں کے۔ عبوری حکومت کے اس اقدام کو خواتین کے لیے آزادی کی طرف ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

تشدد کے مرتکب افسران کی فہرست

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق، عبوری حکومت کے سربراہ ابو محمد الجولانی نے اعلان کیا ہے کہ سابق حکومت کے ان افسران کی فہرست جاری کی جائے گی جو عوام پر ظلم اور جنگی جرائم میں ملوث رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم انعامات کی پیشکش کریں گے ان افراد کو جو جنگی جرائم میں ملوث افراد کے بارے میں معلومات فراہم کریں گے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے شامی صورت حال پر غور کے لیے ایک ہنگامی اجلاس منعقد کیا۔
روسی سفیر واسیلی نیبنزیا کے مطابق سلامتی کونسل شام کی علاقائی سالمیت، خودمختاری، اور شہریوں کے تحفظ پر متفق ہے۔

نائب امریکی سفیر رابرٹ ووڈز نے کہا کہ صورتحال غیر واضح اور تیزی سے بدل رہی ہے۔ کونسل یک آواز ہو کر بات کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

شامی عبوری حکومت کے ابتدائی اقدامات کو عالمی سطح پر بڑی توجہ حاصل ہو رہی ہے، اور امید کی جا رہی ہے کہ یہ اقدامات ملک میں استحکام اور ترقی کے لیے راہ ہموار کریں گے۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں