گلگت بلتستان کے انسپکٹر جنرل پولیس ڈاکٹر ناصر اکبر خان نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان میں فوجی تنصیبات پر حملوں میں ملوث افراد کے مقدمات فوجی عدالتوں میں چلائے جائیں گے۔ انہوں نے جمعرات کے روز گلگت میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ہلاکت کے بعد گلگت اور سکردو میں پیش آنے والے حالیہ پرتشدد واقعات کے مقدمات انسدادِ دہشت گردی قوانین کے تحت درج کر لیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سکردو اور گلگت میں حالیہ تشدد کے بعد عوام کو موجودہ صورتحال سے آگاہ کرنا ضروری تھا۔ ان کے مطابق پاکستان مخالف عناصر ملک کے اندر اور باہر انتشار پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، وہ سکیورٹی اداروں پر دباؤ ڈالنے اور عوامی جذبات کو بھڑکا کر قومی اتحاد اور یکجہتی کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔
انسپکٹر جنرل پولیس کے مطابق حالیہ واقعات میں سکیورٹی اداروں، فوجی تنصیبات، پولیس افسران کی رہائش گاہوں، تعلیمی اداروں، آغا خان رورل سپورٹ پروگرام کے دفاتر اور معلوماتی ٹیکنالوجی مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ حملے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ انہیں منصوبہ بندی اور وسائل کے ساتھ انجام دیا گیا، کیونکہ ایسے واقعات اچانک یا محدود وسائل کے ساتھ ممکن نہیں ہوتے۔
ڈاکٹر ناصر اکبر خان نے کہا کہ دونوں مکاتب فکر کے مذہبی علما نے واضح کر دیا ہے کہ ان تخریبی سرگرمیوں میں ملوث عناصر کا ان سے کوئی تعلق نہیں۔ ان کے بقول کچھ افراد نے حد پار کی، وہ مسلح تھے اور بظاہر منظم منصوبہ بندی کے تحت کارروائیاں کیں۔ ایسے عناصر کو امن و امان اور سماجی سکون برقرار رکھنے کے لیے معاشرے سے الگ کرنا ضروری ہے۔
انہوں نے بتایا کہ واقعات کی تحقیقات کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم قائم کر دی گئی ہے جس کی سربراہی دو سینئر پولیس افسران کریں گے، جن میں ایک سکردو اور دوسرا گلگت سے ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ تحقیقات جاری ہیں اور حقائق سامنے آنے میں کچھ وقت لگ سکتا ہے، اس لیے جب تک کسی فرد یا گروہ کا جرم سے براہ راست تعلق ثابت نہ ہو جائے تب تک قیاس آرائی کرنا مناسب نہیں۔
انہوں نے وضاحت کی کہ متاثر ہونے والی املاک دو اقسام کی ہیں۔ پہلی فوجی تنصیبات ہیں جو پاکستان کے فوجی قوانین کے تحت آتی ہیں، جبکہ دوسری سرکاری یا نجی املاک ہیں جن کے مقدمات انسدادِ دہشت گردی قوانین کے تحت چلائے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ فوجی تنصیبات پر حملوں سے متعلق مقدمات فوجی عدالتوں میں چلائے جائیں گے۔
انسپکٹر جنرل پولیس نے کہا کہ تحقیقات جاری ہیں اور جب تک ذمہ دار افراد کی مکمل شناخت نہیں ہو جاتی اس وقت تک گرفتاریاں نہیں کی جائیں گی۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ گلگت بلتستان ایک پُرامن خطہ ہے اور کسی کو بھی یہاں کے امن کو خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
انہوں نے گلگت اور سکردو کے عوام کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے حالات کو معمول پر لانے میں پولیس اور انتظامیہ کے ساتھ تعاون کیا اور کرفیو کی پابندیوں کا خیال رکھا۔ ان کے مطابق گلگت میں کرفیو اٹھا لیا گیا ہے تاہم بعض علاقوں کو حساس قرار دیا گیا ہے اور وہاں سکیورٹی ہائی الرٹ رہے گی۔ شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ نقل و حرکت کے دوران شناختی کارڈ اپنے ساتھ رکھیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ سکردو میں کرفیو بدستور نافذ ہے، تاہم لوگوں کی روزمرہ ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کے اوقات میں تبدیلی کی جا رہی ہے۔ سول اور فوجی حکام مذہبی علما اور مقامی کمیونٹی رہنماؤں سے مشاورت کے ساتھ معمولات زندگی اور کاروباری سرگرمیوں کو جاری رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ موصول ہونے والی سکیورٹی اطلاعات کے مطابق پاکستان کے دشمن آئندہ دنوں میں ملک کے اندر تخریبی سرگرمیوں کی کوشش کر سکتے ہیں، اس لیے گلگت بلتستان کے داخلی اور خارجی راستوں پر سکیورٹی جانچ مزید سخت کر دی گئی ہے۔
انسپکٹر جنرل پولیس کے مطابق حالیہ جھڑپوں میں ہلاکتوں کی تعداد بیس تک پہنچ گئی ہے۔ سکردو میں مظاہروں کے دوران ہونے والی جھڑپوں میں تین سکیورٹی اہلکاروں سمیت دس افراد جان سے گئے، جبکہ گلگت میں اقوام متحدہ کے دفتر کے قریب پیش آنے والے واقعات میں مزید دس افراد ہلاک ہوئے۔
اسی طرح سکردو میں پچیس سے زائد افراد زخمی ہوئے جبکہ گلگت میں تقریبا تیرہ افراد زخمی ہوئے جن میں بعض کو معمولی چوٹیں آئیں۔ زخمیوں میں پولیس اور فوج کے اہلکار بھی شامل ہیں، جن میں سکردو میں ایک ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس اور گلگت میں ایک تھانہ انچارج بھی زخمی ہوئے۔
انسپکٹر جنرل پولیس نے کہا کہ یہ اعداد و شمار ابتدائی معلومات پر مبنی ہیں اور مکمل تحقیقات کے بعد حتمی رپورٹ جاری کی جائے گی۔