علم و تحقیق اور پرامن جدوجہد سے امت کا کھویا ہوا مقام بحال کریں گے، اسلام آباد میں مسلم دنیا کی طلبہ تنظیموں پر مشتمل کانفرنس میں شرکاء کا اتفاق

اسلام آباد میں منعقدہ انٹرنیشنل لیڈرشپ سمٹ 2025 میں یورپ سمیت دنیا کے مختلف حصوں میں بڑھتے ہوئے اسلاموفوبیا کو ایک سنگین عالمی مسئلہ قرار دیتے ہوئے مسلم نوجوانوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ فکری، تعلیمی اور سماجی سطح پر منظم اور مثبت کردار ادا کریں۔ شرکاء نے مطالبہ کیا کہ مغربی ممالک میں مسلمانوں کے خلاف امتیازی قوانین اور رویوں کا خاتمہ کیا جائے اور مذہبی آزادی کو یقینی بنایا جائے۔

یہ دو روزہ سمٹ 20 اور 21 دسمبر 2025 کو مارگلہ ہوٹل اسلام آباد میں منعقد ہوئی، جس کی میزبانی اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان نے انٹرنیشنل اسلامک فیڈریشن آف اسٹوڈنٹس آرگنائزیشنز (IIFSO) کے تحت کی۔ اجلاس میں مسلم دنیا کے مختلف خطوں سے نوجوانوں اور طلبہ تنظیموں کے 40 سے زائد قائدین اور نمائندوں نے شرکت کی۔

سمٹ کے دوران مقررین نے کہا کہ اسلاموفوبیا محض تعصب تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ کئی ممالک میں پالیسی، قانون سازی اور ریاستی رویوں کی شکل اختیار کر چکا ہے، جس کے نتیجے میں مسلمان شہری خود کو غیر محفوظ اور معاشرتی طور پر الگ تھلگ محسوس کر رہے ہیں۔ شرکاء کے مطابق یہ رجحان عالمی امن اور سماجی ہم آہنگی کے لیے خطرہ بن چکا ہے۔

اجلاس میں مسلم اُمہ کو درپیش مجموعی بحرانوں پر بھی تفصیلی گفتگو کی گئی۔ مقررین کا کہنا تھا کہ مسلم دنیا اس وقت فکری، تعلیمی، معاشی اور سیاسی چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے، جن کی ایک بڑی وجہ اسلامی تعلیمات سے دوری اور محدود قومی و مادی مفادات پر انحصار ہے۔ ان عوامل نے نہ صرف مسلم معاشروں کو کمزور کیا بلکہ عالمی سطح پر بھی عدم استحکام کو جنم دیا۔

سمٹ میں اس بات پر زور دیا گیا کہ آج کا مسلم نوجوان، خواہ مرد ہو یا عورت، تبدیلی کی صلاحیت رکھتا ہے۔ شرکاء کے مطابق اگر نوجوان قرآن و سنت سے مضبوط وابستگی، جدید علم، تحقیق اور تجزیاتی صلاحیتوں کے ساتھ آگے بڑھیں تو وہ نہ صرف اپنی قوم بلکہ پوری انسانیت کے لیے مثبت کردار ادا کر سکتے ہیں۔

اجلاس میں متعدد عملی نکات بھی پیش کیے گئے، جن میں مسلم نوجوانوں کی علمی و تحقیقی صلاحیتوں میں اضافہ، باصلاحیت طلبہ کی سرپرستی، خاندانی نظام کے تحفظ اور نوجوان نسل کو مادہ پرستانہ اور انتہا پسند فکری رجحانات سے بچانے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

عالمی سیاسی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے شرکاء نے غزہ میں جاری خونریزی اور بین الاقوامی طاقتوں کی خاموشی پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت کی حمایت کا اعادہ کیا۔ سوڈان میں عدم استحکام اور انسانی جانوں کے ضیاع پر بھی تشویش ظاہر کی گئی اور مؤثر عالمی کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔

سمٹ میں بھارت میں مسلمانوں کے خلاف اقدامات، خصوصاً ایک مسلم خاتون ڈاکٹر کا حجاب زبردستی اتارنے کے واقعے، اور مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال کو بھی زیرِ بحث لایا گیا۔ شرکاء نے کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی حمایت کا اعادہ کیا۔

اجلاس کے اختتام پر مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ اگرچہ مسلم دنیا کے پاس قدرتی وسائل اور شاندار تاریخی ورثہ موجود ہے، تاہم تحقیق، سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں وہ پیچھے رہ گئی ہے۔ اعلامیے کے مطابق اس خلا کو پُر کرنے کے لیے مسلم نوجوانوں اور طلبہ تنظیموں کے درمیان باہمی تعاون، اتحاد اور مسلسل رابطہ ناگزیر ہے۔

سمٹ کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ علم، تحقیق، اتحاد اور پرامن جدوجہد کے ذریعے مسلم اُمہ کا کھویا ہوا مقام بحال کرنے اور دنیا میں امن، انصاف اور باہمی احترام کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں