“مقامی منڈیوں میں سستی غیر ملکی اشیا آ جائیں گی”، بھارت میں امریکہ کے ساتھ عبوری تجارتی معاہدے کے خلاف ملک گیر ہڑتال

بھارت میں بڑی مزدور تنظیموں اور کسانوں کے اتحاد نے امریکہ کے ساتھ ہونے والے عبوری تجارتی معاہدے کے خلاف جمعرات کو ملک بھر میں ہڑتال کی۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ کسانوں، چھوٹے کاروباروں اور محنت کشوں کے مفادات کے خلاف ہے۔

پارلیمان میں حزبِ اختلاف کے ارکان نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ معاہدہ فوری طور پر منسوخ کیا جائے۔ ارکان نے وزیرِاعظم نریندر مودی کے خلاف نعرے بازی بھی کی۔

ایک روزہ ہڑتال کے باعث مختلف شہروں میں کارخانوں کی سرگرمیاں جزوی طور پر متاثر رہیں۔ مبصرین کے مطابق یہ احتجاج حکومت کی معاشی اصلاحات کے خلاف بڑھتی ہوئی بے چینی کو ظاہر کرتا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب چند اہم ریاستوں میں انتخابات قریب ہیں۔

امریکی خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے نئی دہلی میں کسان رہنما ہنن مولا کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا ہے کہ نیوزی لینڈ، یورپ اور اب امریکہ کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے بھارتی زرعی شعبے کے لیے نقصان دہ ہوں گے کیونکہ مقامی منڈیوں میں سستی غیر ملکی اشیا آ جائیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو احتجاج جاری رہے گا۔

آل انڈیا ٹریڈ یونین کانگریس کی جنرل سیکریٹری امرجیت کور نے کہا ہے کہ اس معاہدے سے بھارتی منڈی سبسڈی یافتہ زرعی مصنوعات کے لیے کھل جائے گی، جس سے لاکھوں چھوٹے کسان متاثر ہوں گے۔

حکومت نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ معاہدہ برآمدات بڑھانے، سرمایہ کاری لانے اور دوطرفہ تعلقات مضبوط کرنے کے لیے اہم ہے۔ وزیرِ تجارت پیوش گوئل کے مطابق ان معاہدوں میں زرعی اور دودھ کے شعبے کے مفادات کا تحفظ کیا گیا ہے۔

امریکی ایوانِ صدر کی جاری کردہ تفصیلات کے مطابق اس معاہدے کی روسے بعض درآمدی محصولات میں کمی کی جائے گی جبکہ روسی تیل کی خریداری پر عائد اضافی محصول ختم کیا جائے گا۔ بدلے میں بھارت امریکی مصنوعات کی بڑی مقدار خریدے گا اور بعض ٹیکسوں میں کمی کرے گا۔

مظاہرین نے سرکاری اداروں کی نجکاری اور نئے مزدور قوانین کی بھی مخالفت کی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ طویل مدت میں یہ اقدامات روزگار کے مواقع بڑھانے اور معیشت کو مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہوں گے۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں