“ابو کرکٹ کے ساتھ تعلیم پر بھی توجہ کا کہتے تھے”، اپنی فاسٹ باؤلنگ کی وجہ سے سوشل میڈیا پر وائرل آئینہ وزیر کی کہانی

شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے والی آئینہ وزیر نامی کمسن بچی اپنی فاسٹ باؤلنگ کی وجہ سے اس وقت سوشل میڈیا پر وائرل ہیں۔ ویڈیو میں آئینہ وزیر کو چھکے اور چوکے مارتے ہوئے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

گاؤں میں اپنے ہم عمر لڑکوں کے درمیان اعتماد کے ساتھ کھیلتی اس آٹھ سالہ بچی کی ویڈیو نے بڑی تعداد میں صارفین کی توجہ حاصل کی۔

یہ ویڈیو پشاور زلمی کے چیئرمین جاوید آفریدی تک پہنچی تو انہوں نے اسے سراہتے ہوئے کہا کہ “یہ ٹیلنٹ ایک درست پلیٹ فارم کا مستحق ہے۔ اس لیے مجھے خوشی ہے کہ آئینہ وزیر ہماری آئندہ زلمی ویمن لیگ کا حصہ ہوں گی۔”

اس اعلان نے آئینہ وزیر کے مستقبل کے سامنے کھڑی کئی رکاوٹیں ختم کر دی ہیں۔ تاشقند اردو سے بات کرتے ہوئے اس نے کہا کہ “میں بہت خوش ہوں اور جاوید انکل کا شکریہ ادا کرتی ہوں۔ اب میں بڑے میدانوں میں کھیلوں گی۔”

آئینہ وزیر کی دو بہنیں اور تین بھائی ہیں۔ اس کی باتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ آئینہ کو کرکٹ سے خاصا لگاؤ ہے۔ ایک سوال کے جواب میں اس نے کہا کہ “میں کرکٹ دیکھتی رہتی ہوں۔ کھیلنے میں مجھے سب سے زیادہ باؤلنگ پسند ہے۔ میرے پسندیدہ باؤلر نسیم شاہ ہیں اور بابر اعظم میرے پسندیدہ بیٹر ہیں۔ کل بھی میں نے پاکستان اور نمیبیا کا میچ دیکھا جو ہم نے جیت لیا تھا۔”

آئینہ وزیر شمالی وزیرستان کی تحصیل شیوا کے ایک سرکاری اسکول میں دوسری جماعت کی طالبہ ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ “آج اسکول میں ٹیچر نے مجھے تپتی دیتے ہوئے داد دی کہ تم تو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہو۔ اس کے علاوہ بھائیوں اور اماں نے بھی کبھی منع نہیں کیا، البتہ ابو کہتے تھے کہ میں کرکٹ کے ساتھ ساتھ تعلیم پر بھی بھرپور توجہ دوں۔”

اپنے والد کا ذکر کرتے ہوئے آئینہ وزیر کا لہجہ پرنم تھا اور ایک جگہ اس نے اس بات کا اظہار بھی کیا کہ ان کے ذکر سے اسے رونا آتا ہے۔

علاقہ مکینوں کے مطابق “ان کے والد عمر گل پیشے کے اعتبار سے ایک اسکول میں استاد تھے۔ گزشتہ سال اگست کے مہینے میں غلط فہمی کی بنیاد پر انہیں گرفتار کیا گیا تھا اور دورانِ حراست ان کی موت واقع ہوئی۔” تاہم آئینہ وزیر کے مستقبل کو دیکھتے ہوئے ان کا خاندان اس واقعے کی تفصیل کا ذکر نہیں کرنا چاہتا۔

آئینہ وزیر کے چچا زاد بھائی منظور خان نے تاشقند اردو سے گفتگو میں بتایا کہ “بہت کم عمری سے وہ محلے میں اپنے ہم عمر لڑکوں اور لڑکیوں کے ساتھ کھیلتی رہتی ہیں۔ کافی عرصے سے کرکٹ موبائل پر دیکھ رہی ہیں اور باقاعدہ اپنے پسندیدہ کھلاڑیوں کی فہرست بنا رکھی ہے۔”

“وزیرستان میں ابتر تعلیمی صورتِ حال کی وجہ سے ہم چاہتے ہیں کہ یہ معیاری تعلیم حاصل کرے اور اس میدان میں اپنا نام بنائے اور پورے وزیرستان کے لیے فخر کا ذریعہ بنے۔”

سوشل میڈیا پر جاری کیے گئے اپنے ایک بیان میں آئینہ وزیر نے کہا کہ وہ ایک بہتر مستقبل کے لیے معیاری تعلیم حاصل کرنا چاہتی ہیں، تاکہ وہ اپنے گھر والوں کے لیے ایک مضبوط سہارا بن سکیں۔

آئینہ وزیر کیسے وائرل ہوئیں؟

منظور خان کہتے ہیں کہ کچھ روز پہلے میرا ایک دوست ظفران وزیر میرے پاس ٹھہرا ہوا تھا۔ ہم گپ شپ لگا رہے تھے کہ اس دوران انہوں نے آئینہ کی باؤلنگ دیکھی تو کافی متاثر ہوئے۔ انہوں نے ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر لگائی اور وہ وائرل ہو گئی۔

آئینہ وزیر اپنی عمر کے حساب سے تو چھوٹی ہیں لیکن ان کا ہنر جوان ہے اور مزید بہتری کی گنجائش رکھتا ہے۔ ماہرین سمجھتے ہیں کہ آئینہ کی دس سال تک “ہارڈ بال” کے ذریعے نیٹ پریکٹس ہوگی تو وہ ایک بہترین گیند باز کے طور پر سامنے آ سکتی ہیں۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں