صدرپاکستان آصف علی زرداری نے یوم پاکستان اور عیدالفطر کے موقع پر قیدیوں کی سزاؤں میں 180 دن کی خصوصی رعایت دینے کا اعلان کیا ہے۔
صدر مملکت نے یہ منظوری آئین کے آرٹیکل 45 کے تحت دی ہے، جس کے مطابق، کچھ مخصوص قیدیوں کو اس رعایت سے فائدہ پہنچے گا۔ وہ قیدی جو اپنی ایک تہائی سزا مکمل کر چکے ہیں اور جن کی عمر 65 سال سے زیادہ ہے، اس رعایت کے اہل ہوں گے، جبکہ 60 سال سے زائد عمر کی خواتین قیدیوں کو بھی اس کا فائدہ پہنچے گا۔
اس کے علاوہ، جیل میں اپنے بچوں کے ہمراہ موجود خواتین قیدیوں کو بھی اس رعایت میں شامل کیا گیا ہے، جبکہ 18 سال سے کم عمر افراد جو اپنی ایک تہائی سزا کاٹ چکے ہیں، ان کی سزا میں بھی کمی کی جائے گی۔
تاہم، یہ رعایت ان قیدیوں کو نہیں ملے گی جو قتل، جاسوسی، ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہیں یا جنہیں زنا، چوری، ڈکیتی، اغوا اور دہشت گردی جیسے جرائم میں سزا دی گئی ہے۔
اسی طرح، مالیاتی جرائم میں ملوث افراد، قومی خزانے کو نقصان پہنچانے والے، غیر ملکی افراد ایکٹ 1946 کے تحت سزا یافتہ قیدی اور منشیات کنٹرول ایکٹ 2022 کے تحت سزا پانے والے افراد بھی اس رعایت کے دائرے میں شامل نہیں ہوں گے۔