جنوبی کوریا کے صدر یون سوک یول نے ملک میں مارشل لاء نافذ کر دیا۔یہ اقدام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا جب حزبِ اختلاف نے پارلیمان کی بجٹ کمیٹی میں ” کم بجٹ بِل ” منظور کروایا اور اسٹیٹ آڈیٹر اور چیف پراسیکیوٹر کے خلاف مواخذے کی تحریک پیش کی۔
جنوبی کوریا کے صدر نے 3 دسمبر کی رات ٹیلی وژن خطاب میں مارشل لاء نافذ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ” یہ قدم شمالی کوریا کی کمیونسٹ قوتوں سے ملک کی حفاظت اور ریاست مخالف عناصر کو ختم کرنے کے لیے لگایا گیا ہے۔”
جنوبی کوریا کی خبر رساں ایجنسی “یونہاپ” کے مطابق صدر نے کہا کہ ” مارشل لاء کا مقصد شمالی کوریا کی حامی قوتوں کا خاتمہ اور آزادی کے آئینی نظام کا تحفظ ہے ہے۔”
مارشل لاء کے تحت اقدامات
مارشل لاء کے تحت تمام سیاسی سرگرمیوں، اجتماعات اور مظاہروں پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ وزیرِ دفاع نے فوج کے اہم کمانڈروں کا اجلاس طلب کر کے ہنگامی ڈیوٹی کا حکم دیا ہے۔ فوج کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ ہنگامی حالات کے لیے تیار رہیں۔
صدر نے مارشل لاء کے اعلان میں یقین دہانی کروائی ہے کہ ملک کی خارجہ پالیسیوں اور بین الاقوامی ذمہ داریوں میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔
سیاسی ردِ عمل
جنوبی کوریا کی اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹک پارٹی (ڈی پی) نے مارشل لا کے نفاذ کو “غیر آئینی” قرار دیتے ہوئے سخت مذمت کی ہے۔
ڈی پی نے منگل کی رات قومی اسمبلی میں اپنے اراکین کو ایک ہنگامی اجلاس کے لیے طلب کیا تاکہ مارشل لا کو ختم کرنے کے طریقہ کار پر تبادلہ خیال اور عمل شروع کیا جا سکے۔
ڈی پی کے رہنما لی جے میونگ نے اس اقدام کو عوام کے خلاف قرار دیتے ہوئے کہا:
“صدر یون نے بلاوجہ ہنگامی مارشل لا نافذ کیا ہے۔”
لی نے خبردار کیا کہ
“جلد ہی ٹینک، بکتر بند گاڑیاں، اور مسلح سپاہی ملک پر قابض ہو جائیں گے۔