ایک نئی تحقیق کے مطابق، ڈائٹ مشروبات کا کثرت سے استعمال ذیابیطس(شوگر) میں مبتلا ہونے کے خطرے کو نمایاں طور پر بڑھا سکتا ہے۔
ایسے افراد جنہوں نے سب سے زیادہ ڈائٹ سافٹ ڈرنکس استعمال کیں، ان میں ذیابیطس لاحق ہونے کا خطرہ 129 فیصد زیادہ پایا گیا۔
جبکہ خاص طور پر سیکرین (saccharin) جیسے مصنوعی میٹھے کے زیادہ استعمال سے 110 فیصد اضافی خطرہ ظاہر ہوا۔
اگر آپ وزن کم کرنا چاہتے ہیں، وزن کو متوازن رکھنا چاہتے ہیں، یا صرف چینی سے پرہیز کر رہے ہیں، تو آپ شاید ڈائٹ سافٹ ڈرنکس کا سہارا لیتے ہوں گے۔ یہ ایک عام طرز عمل ہے، کیونکہ چینی سے بھرپور مشروبات کو دل کی بیماری، فالج، انسولین کی مزاحمت، اور کم عمر میں موت سے جوڑا گیا ہے۔
تاہم، Nutrition 2025 میں پیش کی گئی نئی تحقیق کے مطابق، ڈائٹ ڈرنکس وہ فائدہ نہیں دے رہیں جو آپ سمجھتے ہیں،بلکہ یہ آپ کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہیں۔
تحقیق کیسے کی گئی؟
یہ تحقیق CARDIA (Coronary Artery Risk Development in Young Adults) اسٹڈی سے اخذ کی گئی، جو کہ 30 سالہ طویل مطالعہ ہے اور 1985 میں شروع ہوا۔ اس میں 4,654 افراد شامل تھے، جن میں تقریباً 55 فیصد خواتین تھیں۔ مطالعے کے آغاز پر شرکاء کی اوسط عمر 25 سال تھی۔
ان کے غذائی معمولات کو ابتدا میں، 7ویں سال، اور 20ویں سال پر نوٹ کیا گیا۔ تحقیق کا محور تھا ان کے مصنوعی مٹھاس، ڈائٹ مشروبات، اسپارٹیم (aspartame) اور سوکرالوز (sucralose) کا اوسط استعمال۔
تحقیقی ٹیم نے 30 سال میں آنے والے 691 ذیابیطس کے کیسز کو نوٹ کیا، جن کی تشخیص خون میں گلوکوز کی مقدار، A1C لیول یا ذیابیطس کی ادویات کے استعمال کی بنیاد پر کی گئی۔
تحقیق کے اہم نتائج
دیگر عوامل جیسے عمر، جنس، نسل، تعلیم، خوراک، ورزش، تمباکو نوشی، شراب نوشی اور خاندانی پس منظر کو مدنظر رکھتے ہوئے تجزیہ کیا گیا۔
تحقیق میں درج ذیل اہم نکات سامنے آئے:
جو لوگ سب سے زیادہ ڈائٹ مشروبات استعمال کرتے تھے، ان میں ذیابیطس کا خطرہ 129 فیصد زیادہ تھا۔
جن افراد نے سیکرین کا سب سے زیادہ استعمال کیا، ان میں ذیابیطس کا خطرہ 110 فیصد زیادہ پایا گیا۔
حقیقی زندگی میں اس تحقیق کا مطلب کیا ہے؟
ہم جانتے ہیں کہ چینی کا کم استعمال بہتر ہے، اور میٹھے مشروبات ہماری غذا میں شامل چینی کا ایک بڑا ذریعہ ہیں۔ لیکن اس تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ چینی والے مشروبات کو ڈائٹ مشروبات سے تبدیل کرنا بھی ذیابیطس کے خطرے سے محفوظ نہیں رکھتا۔
FDA نے مصنوعی مٹھاس کو عمومی طور پر محفوظ قرار دیا ہے، لیکن ان کے صحت پر اثرات خاص طور پر آنتوں کی صحت کے حوالے سے متنازع رہے ہیں۔
ابھی یہ واضح نہیں کہ اصل خطرہ مصنوعی مٹھاس سے ہے یا ان کے ساتھ موجود دیگر اجزاء سے، یا یہ سب کسی غیر متوازن خوراک کا نتیجہ ہیں۔
عملی مشورہ
ہر چیز اعتدال میں بہتر ہے۔ سافٹ ڈرنکس (چاہے چینی والی ہوں یا ڈائٹ) کبھی کبھار استعمال کرنا قابلِ قبول ہو سکتا ہے، لیکن روزانہ کی بنیاد پر نہیں۔ اگر آپ روزانہ ڈائٹ سافٹ ڈرنک پیتے ہیں، تو کوشش کریں کہ اسے قدرتی مشروبات سے تبدیل کریں، جیسے:
پانی یا اسپارکلنگ واٹر (بغیر مٹھاس کے)
بغیر چینی والی چائے
دودھ اور قدرتی جوس (محدود مقدار میں)
اگر آپ کو سافٹ ڈرنک صرف توانائی کے لیے چاہیے، تو اس کی جگہ بادام اور پنیر جیسا صحت مند ناشتہ یا تھوڑا چہل قدمی یا ڈیسک پر ہلکی ورزش کریں، تاکہ قدرتی طور پر توانائی بحال ہو۔
خلاصہ
یہ نئی تحقیق واضح کرتی ہے کہ ڈائٹ سافٹ ڈرنکس کا زیادہ استعمال ذیابیطس کے خطرے کو دوگنا سے بھی زیادہ بڑھا سکتا ہے۔
چاہے مشروب چینی سے میٹھا ہو یا مصنوعی مٹھاس سے، اس کا متواتر استعمال نقصان دہ ہو سکتا ہے۔
وقت کے ساتھ، اپنے روزمرہ کے مشروبات کو بتدریج صحت مند متبادلات سے تبدیل کریں، اور ایک متوازن اور قدرتی غذا کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔