ایک ویکسین متعدد سانس کی بیماریوں اور الرجیز کے خلاف لڑ سکتی ہے، تحقیق

امریکی محققین نے ناک کے ذریعے دی جانے والی ایک نئی اسپرے ویکسین پر تحقیق کی ہے، جو مستقبل میں نزلہ، زکام، فلو اور یہاں تک کہ پھیپھڑوں کے بیکٹیریا انفیکشن سے بھی تحفظ فراہم کر سکتی ہے۔ اسٹینفورڈ یونیورسٹی کے سائنسدانوں کے مطابق، اگر یہ ویکسین انسانی آزمائشوں میں کامیاب ہو گئی تو یہ ویکسین کی تاریخ میں ایک بڑی پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔ فی الحال اس تحقیق کا تجربہ جانوروں پر کیا گیا ہے اور انسانی کلینیکل ٹرائلز ابھی باقی ہیں۔

روایتی ویکسینز عام طور پر جسم کو کسی ایک مخصوص بیماری کے خلاف مدافعت سکھاتی ہیں، جیسے خسرہ کی ویکسین صرف خسرہ سے بچاتی ہے یا چکن پاکس کی ویکسین صرف اسی بیماری کے خلاف مؤثر ہوتی ہے۔ یہ طریقہ کار تقریبا دو صدیوں سے رائج ہے۔ لیکن نئی اسپرے ویکسین کا طریقہ کار بالکل مختلف ہے۔ یہ ویکسین مدافعتی نظام کو کسی ایک مخصوص وائرس کے خلاف تربیت دینے کے بجائے جسم کے سفید خلیات (میکروفیجز) کو “ہائی الرٹ” پر رکھتی ہے۔

ویکسین ناک کے اسپرے کی صورت میں دی جاتی ہے اور پھیپھڑوں میں موجود سفید خلیات کو چوکنا کر دیتی ہے، تاکہ جیسے ہی کوئی وائرس یا بیکٹیریا داخل ہونے کی کوشش کرے، مدافعتی نظام فوری ردِعمل دے۔ جانوروں پر کیے گئے تجربات میں یہ اثر تقریبا تین ماہ تک برقرار رہا اور وائرس کی مقدار میں 100 سے 1000 گنا تک کمی دیکھی گئی۔

اس ویکسین سے فلو، کووڈ، عام نزلہ زکام، مختلف بیکٹیریا اور حتیٰ کہ الرجی پیدا کرنے والے عناصر کے خلاف بھی وسیع تحفظ حاصل ہو سکتا ہے۔ تحقیق میں یہ بھی دیکھا گیا کہ یہ ویکسین دو خطرناک بیکٹیریا، اسٹیفیلوکوکس اوریئس اور ایسینیٹو بیکٹر باؤمانی کے خلاف مؤثر رہی۔ اس کے علاوہ، اس نے گھر کی دھول سے پیدا ہونے والی الرجی کے اثرات میں کمی دکھائی، جو دمہ کے مریضوں کے لیے فائدہ مند ہو سکتی ہے۔

ماہرین اس تحقیق کو انتہائی دلچسپ قرار دے رہے ہیں۔ آکسفورڈ یونیورسٹی کی ویکسین ماہر پروفیسر ڈینیلا فریرا کے مطابق اگر انسانی آزمائشوں میں بھی یہی نتائج سامنے آئیں تو یہ سانس کی عام بیماریوں سے تحفظ کے طریقہ کار کو بدل سکتا ہے۔ تاہم دیگر ماہرین نے احتیاط پر زور دیا ہے، کیونکہ مدافعتی نظام کو مسلسل چوکنا رکھنے سے بعض اوقات جسم خود اپنی صحت مند بافتوں پر حملہ کر سکتا ہے، جسے “فرینڈلی فائر” کہا جاتا ہے۔

محققین کے مطابق، یہ ویکسین موجودہ ویکسینز کا متبادل نہیں بلکہ ان کی تکمیل ہو سکتی ہے۔ یہ ویکسین کسی نئی عالمی وبا کے آغاز میں وقتی تحفظ فراہم کر سکتی ہے یا سردیوں کے آغاز میں موسمی اسپرے کے طور پر استعمال ہو سکتی ہے، جس سے شدید بیماری اور اموات میں کمی لائی جا سکتی ہے۔

اگر یہ “یونیورسل ویکسین” انسانی آزمائشوں میں بھی کامیاب ہو گئی تو یہ سانس کی بیماریوں سے تحفظ کے شعبے میں ایک انقلابی قدم ہوگا، تاہم فی الحال اس کے محفوظ اور مؤثر ہونے کی حتمی تصدیق انسانی تجربات کے بعد ہی ممکن ہو سکے گی۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں