پاکستان کے صوبہ سندھ کی حکومت نے تعلیمی وسائل کی مساوی تقسیم اور مستحق طلبہ کو مدد فراہم کرنے کے لیے تمام نجی اسکولوں میں بک بینک قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس حوالے سے ایڈیشنل ڈائریکٹر رجسٹریشن، رفیعہ ملاح نے نجی اسکولوں کو باضابطہ خطوط ارسال کر دیے ہیں، جن میں انہیں بک بینک کے قیام کی ہدایات دی گئی ہیں۔
رفیعہ ملاح کے جاری کردہ خط میں کہا گیا ہے کہ، حکومت سندھ ‘تعلیم سب کے لیے’ کے اصول کے تحت ایسے اقدامات کر رہی ہے جن سے تعلیمی مواقع کو برابر کیا جا سکے۔ اس کا مقصد ایسے بچوں اور نوجوانوں کو سہولت فراہم کرنا ہے جو مالی وسائل کی کمی کی وجہ سے نصابی کتب خریدنے سے قاصر ہیں۔
انہوں نے مزید وضاحت کی کہ، محکمہ اسکول ایجوکیشن اینڈ لٹریسی نے پہلے ہی تعلیم کو عام کرنے کے لیے مختلف اقدامات کیے ہیں، جن میں سرکاری اسکولوں میں مفت نصابی کتابوں کی فراہمی اور پبلک اسکولوں میں بک بینک قائم کرنا شامل ہے۔ اب یہی اقدام نجی اسکولوں میں بھی متعارف کرایا جا رہا ہے، تاکہ زیادہ سے زیادہ مستحق طلبہ اس سے مستفید ہو سکیں۔
بک بینک ایک مرکزی ذخیرہ ہوگا، جہاں طلبہ، والدین اور کمیونٹی کے دیگر افراد اپنی استعمال شدہ نصابی کتابیں عطیہ کر سکیں گے۔ اس اقدام سے نئے تعلیمی سال میں ضرورت مند طلبہ کو کتابیں مفت فراہم کی جا سکیں گی۔ جو طلبہ نئی کتابیں خریدنے کی استطاعت رکھتے ہیں، انہیں پرانی نصابی کتابیں عطیہ کرنے کی ترغیب دی جائے گی، تاکہ دیگر طلبہ اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔
مزید برآں، اسکول انتظامیہ کو ہدایت دی گئی ہے کہ، وہ اس نظام کے لیے ایک فوکل پرسن نامزد کریں جو بک بینک کی نگرانی کرے گا اور اس کے تمام امور کو منظم طریقے سے چلائے گا۔ اس کے علاوہ، کسی بھی طالبعلم پر نئی نصابی کتابیں خریدنے کے لیے دباؤ نہیں ڈالا جائے گا، اور اسکول انتظامیہ کسی قسم کی شرط عائد نہیں کر سکے گی۔
رفیعہ ملاح نے اپنے بیان میں کہا کہ، اس منصوبے سے نہ صرف تعلیمی مواد کا بہتر استعمال ممکن ہوگا، بلکہ والدین پر مالی دباؤ بھی کم ہوگا۔ اس اقدام سے تعلیمی شعبے میں پائیداری (Sustainability) کو فروغ ملے گا، وسائل کا ضیاع روکا جا سکے گا اور نجی اسکولوں میں بھی سماجی بھلائی کے رجحان کو تقویت ملے گی۔
نجی اسکولوں کو اس اقدام کا حصہ بننے کی ہدایت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ، یہ نہ صرف تعلیم کے فروغ میں مددگار ہوگا، بلکہ سماجی بہبود اور تعلیمی شعبے میں برابری لانے میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔