پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کے بعد صوبہ سندھ اور پنجاب کی حکومتوں نے عوام کو ریلیف دینے کے لیے مختلف اقدامات کا اعلان کیا ہے، جبکہ وفاقی دارالحکومت میں عوامی ٹرانسپورٹ کو 30 دن کے لیے مفت کر دیا گیا ہے۔
حالیہ اضافے میں پیٹرول کی قیمت میں 43 فیصد اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 55 فیصد اضافہ کیا گیا، جس کے بعد عوام پر بڑھتے ہوئے بوجھ کو کم کرنے کے لیے یہ فیصلے کیے گئے۔
کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے اعلان کیا کہ صوبائی حکومت رجسٹرڈ موٹر سائیکل مالکان کو ماہانہ 2000 روپے بطور فیول سبسڈی فراہم کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو مشکل فیصلے کرنا پڑے، تاہم اب ہدفی سبسڈی کے ذریعے صرف مستحق افراد کو فائدہ پہنچایا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ موٹر سائیکل مالکان کو اپنی گاڑی اپنے نام پر رجسٹر کرانا ہوگا اور متعلقہ ویب سائٹ کے ذریعے تصدیق کے بعد 15 سے 20 اپریل کے درمیان رقم فراہم کی جائے گی۔
وزیر اعلیٰ سندھ نے چھوٹے کاشتکاروں کے لیے بھی ریلیف کا اعلان کیا اور کہا کہ 25 ایکڑ سے کم زمین رکھنے والے کسانوں کو فی ایکڑ 1500 روپے دیے جائیں گے تاکہ ڈیزل کی بڑھتی قیمتوں کا اثر کم کیا جا سکے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ پبلک اور مال بردار ٹرانسپورٹ کے لیے بھی امدادی پیکیج تیار کیا گیا ہے جس کے تحت ایک لاکھ روپے تک سبسڈی دی جائے گی، جبکہ صوبے میں شہری اور بین الاضلاعی کرایوں میں اضافہ نہیں ہونے دیا جائے گا۔
دوسری جانب وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اعلان کیا کہ صوبے بھر میں شہری ٹرانسپورٹ کو مفت کر دیا گیا ہے۔ اس سہولت میں اورنج لائن ٹرین، میٹرو بس، اسپیڈو بس اور گرین الیکٹرک بس شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام عالمی بحران کے تناظر میں عوام کو ریلیف دینے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔
پنجاب حکومت نے کسانوں کے لیے بھی سبسڈی کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت فی ایکڑ ڈیزل پر 100 روپے کی رعایت دی جائے گی، جبکہ موٹر سائیکل سواروں کو بھی 20 لیٹر تک فی لیٹر 100 روپے سبسڈی فراہم کی جائے گی۔
اسی طرح صوبے میں مال بردار گاڑیوں کے لیے ماہانہ 70 ہزار روپے، بڑی ٹرانسپورٹ کے لیے 80 ہزار روپے اور پبلک بسوں کے لیے ایک لاکھ روپے سبسڈی دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب نے ٹرانسپورٹرز پر زور دیا کہ وہ اس سبسڈی کا فائدہ عوام تک منتقل کریں۔
ادھر وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اعلان کیا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر اسلام آباد میں تمام پبلک ٹرانسپورٹ 30 دن کے لیے مفت ہوگی، جس پر آنے والے اخراجات وزارت داخلہ برداشت کرے گی۔