پاکستان میں پانی کا مسئلہ وقت کے ساتھ ساتھ سنگین ہوتا جا رہا ہے۔ دریا، جو کبھی زمین کو سیراب کرتے تھے، اب تنازعات اور سیاسی کشمکش کا مرکز بن چکے ہیں۔ سندھ ہمیشہ سے کالا باغ ڈیم اور دیگر آبی منصوبوں کی مخالفت کرتا آیا ہے، اور اب جب پنجاب میں چھ نئی نہریں بنانے کا منصوبہ سامنے آیا تو ایک بار پھر وہی مزاحمت دیکھی جا رہی ہے۔پانی کی تقسیم پہلے ہی ایک پیچیدہ مسئلہ ہے۔ 1991 کے آبی معاہدے (Water Accord) کے باوجود سندھ کو اکثر شکایت رہتی ہے کہ اسے اس کے حصے کا پانی مکمل طور پر نہیں دیا جا رہا۔ جب پنجاب میں مزید نہریں نکالنے کی بات آتی ہے تو سندھ میں یہ خدشہ جنم لیتا ہے کہ مستقبل میں اسے مزید پانی کی قلت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ دوسری طرف، پنجاب کا موقف ہے کہ پانی کے انتظام کو جدید خطوط پر استوار کیے بغیر زرعی پیداوار میں اضافہ ممکن نہیں۔
چاروں صوبوں میں پانی کی منصفانہ تقسیم کے لیے انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (IRSA) جیسا قومی ادارہ موجود ہے، لیکن اس کے باوجود سندھ کو پانی کے حوالے سے تحفظات ہیں۔اعداد و شمار کے مطابق، پنجاب کو 21.71 ملین ایکڑ رقبے کے لیے ایک لاکھ ایک ہزار کیوسک پانی فراہم کیا جاتا ہے، جبکہ سندھ کو 12.78 ملین ایکڑ کے لیے ایک لاکھ نو ہزار کیوسک پانی دیا جاتا ہے۔ تاہم، سندھ میں 600 میل کے علاقے میں 39 فیصد پانی ضائع ہو جاتا ہے، جبکہ پنجاب میں 2600 میل کے نیٹ ورک میں انڈس زون کے پانی میں مقامی ڈیموں اور چشموں کی وجہ سے 2 فیصد اضافہ ہو جاتا ہے۔
تازہ صورتحال یہ ہے کہ سندھ کی قوم پرست جماعتیں پنجاب میں چھ نئی نہریں نکالنےکےمنصوبے کے خلاف احتجاج کر رہی ہیں۔ پیپلز پارٹی بھی ان کے موقف کی حمایت کرتی نظر آ رہی ہے، اور سندھ میں یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ ان نہروں کی تعمیر سے صوبے کے پانی پر مزید دباؤ پڑے گا۔
بلاول بھٹو زرداری نے ایک عوامی جلسے میں واضح الفاظ میں ان نہروں کی مخالفت کی، جبکہ شیری رحمان نے بھی اپنے بیان میں اسے سندھ کے مفادات کے خلاف قرار دیا۔ صدر آصف علی زرداری نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اس مسئلے کی سنگینی کا اشارہ دیا۔دوسری جانب، وزیر اعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ نے پیپلز پارٹی کی جانب سے نئی نہروں کی مخالفت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان کوئی بڑا مسئلہ نہیں، لیکن اگر کوئی مسئلہ پیدا ہو سکتا ہے تو وہ پانی کے معاملے پر ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق، نہروں کے معاملے پر مؤقف اختیار کرنا پیپلز پارٹی کی سیاسی مجبوری ہے، اور اگر کالا باغ ڈیم بن جائے تو پانی کی قلت کم ہو سکتی ہے۔
یہاں سوال یہ ہے کہ پانی کا یہ مسئلہ محض سیاسی ہے یا اس کا کوئی حقیقی حل بھی ممکن ہے؟
سندھ کی قیادت کے تحفظات اپنی جگہ، لیکن کچھ بنیادی حقائق کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ پانی ایک قدرتی وسیلہ ہے اور اس کی تقسیم ایک سائنسی، زمینی اور معاشی مسئلہ ہے، نہ کہ محض ایک سیاسی نعرہ۔ اگر ملک کے ایک حصے میں پانی ذخیرہ کر کے بہتر طریقے سے استعمال کیا جا سکتا ہے، تو اس پر صرف خدشات کی بنیاد پر اعتراض کرنا دانشمندی نہیں۔ پانی کی کمی صرف سندھ کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے پاکستان کا چیلنج ہے، اور اس کا حل ایک جامع اور طویل المدتی حکمت عملی میں مضمر ہے، نہ کہ محض جذباتی مزاحمت میں۔اگر ہم خطے کی صورتحال کو دیکھیں تو بھارت نے دریائے چناب اور جہلم پر متعدد ڈیم بنا لیے ہیں، جس کی وجہ سے پاکستان کے پانی کے وسائل دباؤ کا شکار ہو چکے ہیں۔ بھارت نے ہمیشہ پانی کو ایک اسٹریٹیجک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا ہے۔ وہ وقتاً فوقتاً دریاؤں کا بہاؤ روک کر یا غیر متوقع طور پر پانی چھوڑ کر پاکستان کی زراعت اور معیشت کو نقصان پہنچاتا ہے۔ ایسے میں اگر پاکستان اپنے آبی وسائل کو بہتر انداز میں منظم نہیں کرے گا تو یہ ہماری اپنی نااہلی ہوگی۔
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ پانی ذخیرہ کیے بغیر کسی بھی ملک کا زرعی مستقبل محفوظ نہیں رہ سکتا۔ سندھ کو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ پانی کی ذخیرہ اندوزی اور اس کا بہتر انتظام پورے ملک کی ضرورت ہے، نہ کہ کسی ایک صوبے کی خواہش۔ دنیا بھر میں ممالک اپنے آبی وسائل کے حوالے سے دور اندیشی کا مظاہرہ کرتے ہیں، اور اگر پاکستان نے ایسا نہ کیا تو آنے والی نسلیں یقیناً پانی کے قحط کا سامنا کریں گی۔
سندھ کو جذباتی نعرے بازی کے بجائے حقیقت پسندی سے کام لینا ہوگا۔ اگر کالا باغ ڈیم اور دیگر آبی منصوبوں پر شکوک و شبہات ہیں تو ان کا حل بات چیت اور سائنسی تحقیق کے ذریعے نکالا جا سکتا ہے، نہ کہ ہر منصوبے کی اندھا دھند مخالفت کرکے۔ پانی پاکستان کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے، اور اس کا حل قومی یکجہتی اور تدبر میں پوشیدہ ہے، نہ کہ محاذ آرائی میں۔