دفتر، دکان یا کسی اور جگہ پر مسلسل بیٹھے رہنے کے کیا سنگین نقصانات برآمد ہو سکتے ہیں؟

زیادہ وقت بیٹھ کر گزارنے یا غیر متحرک طرز زندگی اپنانے سے مختلف طبی مسائل جنم لیتے ہیں، جن میں سے بعض سنگین بیماریوں کی صورت میں سامنے آ سکتے ہیں۔

ماہرین صحت کے مطابق، دنیا کے بیشتر ممالک میں یہ معمول بن چکا ہے کہ، لوگ روزانہ تقریبا9 گھنٹے کام، سفر یا گھر کے اندر بیٹھ کر گزارتے ہیں، جس سے انسانی صحت پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ، بہت سے افراد اپنے جاگنے کے اوقات کا بڑا حصہ بیٹھ کر گزارتے ہیں، جو کہ صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو رہا ہے۔ اگرچہ کچھ لوگ ورزش کا معمول بھی اپنائے ہوئے ہیں، لیکن ماہرین کے مطابق، صرف ورزش کرنا زیادہ بیٹھنے سے پیدا ہونے والے خطرات کو مکمل طور پر کم نہیں کر سکتا۔

ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ، جسمانی طور پر مسلسل متحرک رہنا اور ساکت رہنے کا دورانیہ گھٹانا ہی بہتر صحت کا ضامن ہے۔ وہ زیادہ بیٹھنے یا ورزش کی کمی کو ‘غیر فعال طرز زندگی’ قرار دیتے ہیں، جو انسانی صحت پر گہرے اثرات ڈال سکتا ہے۔

غیر فعال طرز زندگی کیا ہے؟
غیر فعال طرز زندگی سے مراد ہے کہ، سونے کے علاوہ دن کا بڑا حصہ جسمانی حرکت کے بغیر گزارا جائے، جیسے کہ بیٹھے یا لیٹے رہنا۔ ضروری نہیں کہ، یہ وقت لگاتار ہو، بلکہ مجموعی طور پر طویل ساکت رہنا بھی نقصان دہ ہو سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق، اگر کوئی فرد روزانہ چار سے چھ گھنٹے یا اس سے زیادہ وقت بیٹھ کر کمپیوٹر کے سامنے، ویڈیو گیمز کھیلتے، ٹی وی دیکھتے یا سفر کرتے گزارتا ہے تو یہ طرز زندگی غیر فعال کہلاتا ہے۔

تحقیقات سے معلوم ہوتا ہے کہ، روزانہ 10 گھنٹے یا اس سے زیادہ وقت بیٹھے رہنے سے دل کی بیماریوں سمیت کئی دیگر سنگین طبی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں، چاہے فرد باقاعدگی سے ورزش ہی کیوں نہ کرتا ہو۔ حتیٰ کہ، اگر آپ کا باڈی ماس انڈیکس (BMI) نارمل ہو تب بھی یہ عادت دل کی بیماری کے خطرے میں اضافہ کر سکتی ہے۔

غیر فعال طرز زندگی کی علامات
ڈاکٹر وان آئٹرسن کے مطابق، انسانی جسم بعض علامتوں کے ذریعے متنبہ کرتا ہے کہ، اسے مزید جسمانی حرکت کی ضرورت ہے۔ ان میں توانائی کی کمی یا تھکن، میٹابولزم کی سستی، دوران خون میں کمی، وزن میں اضافہ، پٹھوں کی کمزوری، کمر، گردن یا جوڑوں کا درد اور بیٹھنے کے دوران جسم کا جھکے رہنا شامل ہیں۔

صحت پر سنگین اثرات
موٹاپا: طویل وقت بیٹھے رہنے سے جسم کم کیلوریز جلاتا ہے کیونکہ غیر استعمال شدہ پٹھے توانائی استعمال نہیں کرتے۔ نتیجتا وزن میں اضافہ ہوتا ہے، جو وقت گزرنے کے ساتھ موٹاپے کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

دل کی بیماریاں اور بلند فشار خون: دل بھی ایک عضلہ ہے، اور دیگر عضلات کی طرح غیرفعالیت اسے بھی متاثر کرتی ہے۔ مسلسل بیٹھے رہنے سے دل پر دباؤ بڑھتا ہے، جس سے ہائی بلڈ پریشر اور دل کی دیگر بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، چاہے وزن نارمل ہی کیوں نہ ہو۔

ڈپریشن: صرف جسم ہی نہیں، دماغ بھی اس طرز زندگی سے متاثر ہوتا ہے۔ مختلف مطالعات نے واضح کیا ہے کہ، طویل وقت کمپیوٹر یا ٹی وی کے سامنے بیٹھے رہنے اور ڈپریشن کے درمیان براہ راست تعلق پایا جاتا ہے۔

کینسر کی کچھ اقسام: تحقیق سے یہ بھی ظاہر ہوا ہے کہ، غیر فعال طرز زندگی بڑی آنت، پھیپھڑوں اور بچہ دانی کے کینسر کے خطرے کو بڑھا سکتا ہے۔

علاج اور احتیاطی تدابیر
ڈاکٹر وان آئٹرسن تجویز کرتے ہیں کہ، ان مسائل سے بچاؤ کے لیے ضروری ہے کہ، کام کے دوران ہر ایک گھنٹے بعد کم از کم پانچ منٹ پیدل چلا جائے یا ہلکی جسمانی حرکت کی جائے۔ ان مختصر وقفوں سے صحت پر مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں