اسلام آباد کی نیشنل لائبریری میں مسلم انسٹیٹیوٹ اور آذربائیجان کے سفارتخانے کے اشتراک سے “مسلم دنیا کا ثقافتی ورثہ” کے عنوان سے ایک سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔ اس سیمینار کا مقصد شوشا کو 2024 کے لیے اسلامی دنیا کے ثقافتی دارالحکومت کے طور پر اجاگر کرنا تھا۔
تقریب میں سابق صدر آزاد جموں و کشمیر مسعود خان، مسلم انسٹیٹیوٹ کے چیئرمین صاحبزادہ سلطان احمد علی، پاکستان میں آذربائیجان کے سفیر خضر فرہادوف، پاکستان میں ازبکستان کے سفیر علی شیر تختیوف، اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے صدر میجر جنرل (ر) رضا محمد، سابق ایڈیشنل سیکرٹری خارجہ آر اشتیاق ایچ اندرابی اور پروفیسر انجینئر ضمیر احمد اعوان سمیت دیگر معززین نے خطاب کیا۔

شوشا کی ثقافتی اہمیت اور بحالی کی کاوشیں
مقررین نے شوشا کو اسلامی دنیا کے ثقافتی ورثے کا شاہکار قرار دیتے ہوئے اس کی بھرپور تاریخی، ثقافتی اور روحانی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ 1992 میں آرمینیائی افواج کے قبضے کے دوران شہر کی آذربائیجانی آبادی کو بے پناہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، اور یہ عرصہ شوشا کی شناخت کے لیے کٹھن تھا۔
آذربائیجان نے 2020 میں 44 روزہ جنگ کے دوران شوشا کو آزاد کرایا، اور جنوری 2021 میں صدر آذربائیجان نے اسے ملک کا ثقافتی دارالحکومت قرار دیا۔ اس فیصلے کا مقصد شہر کی تاریخی حیثیت کو بحال کرنا اور اسے عالمی سطح پر مسلم دنیا کے ثقافتی ورثے کی علامت کے طور پر پیش کرنا تھا۔
عالمی مسلم ثقافت کو درپیش خطرات
مقررین نے جنوبی ایشیا میں بھارتی شدت پسندی، فلسطین میں اسرائیلی قبضے، اور مشرق وسطیٰ میں جاری عدم استحکام کو مسلم ثقافت کے لیے خطرہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ شوشا کی بحالی ایک نئی صبح کی علامت ہے، اور دنیا بھر کے مسلمانوں کو اپنے ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے مشترکہ کاوشیں کرنی چاہئیں۔

نوجوان نسل کے لیے پیغام
سیمینار کے آخر میں مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ شوشا جیسے تاریخی ورثے کی بحالی نہ صرف آذربائیجان بلکہ پوری مسلم دنیا کے لیے تاریخی انصاف کی علامت ہے۔ انہوں نے نوجوانوں کو اس ورثے سے روشناس کرانے اور اسے فروغ دینے کی اہمیت پر زور دیا۔
شوشا آج بھی ان گہرے روحانی اور ثقافتی رشتوں کی عکاسی کرتا ہے جو مسلم دنیا کو جوڑتے ہیں، اور اس کی بحالی آذربائیجان کی ایک بڑی کامیابی ہے۔