ازبکستان میں نوجوان فنکارون کے لیے نئی امید

ازبکستان میں موسیقی اور ثقافت کے فروغ کے لیے ایک اہم قدم اٹھایا گیا ہے۔ شہر اندیجان میں ازبکستان کے مایہ ناز گلوکار، موسیقار اور قومی فنکار “شیرعلی جُرایوف”کے نام سے ایک ہائی اسکول آف میوزک اینڈ آرٹس کے قیام کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس ادارے کا مقصد نوجوان نسل کو موسیقی اور فنون لطیفہ کی تعلیم و تربیت فراہم کرنا اور ازبک روایتی و جدید موسیقی کو فروغ دینا ہے۔

یہ اسکول صرف کلاس روم کی تعلیم تک محدود نہیں ہوگا بلکہ یہاں پریکٹیکل سیشنز، تھیٹر، انسٹرومنٹل ٹریننگ اور ووکل موسیقی کی باقاعدہ تربیت دی جائے گی۔ اسکول میں ملکی اور بین الاقوامی سطح کے اساتذہ تعینات کیے جائیں گے تاکہ طلبہ کو اعلیٰ معیار کی فنی تعلیم میسر آ سکے۔

ازبک میڈیا کے مطابق ، تعلیمی عمل 2025/2026 کے تعلیمی سال سے شروع ہونے کا امکان ہے۔

داخلہ اُن طلبہ کے لیے کھولا جائے گا جنہوں نے نویں جماعت سے موسیقی کی ابتدائی تربیت حاصل کی ہو۔ طلبہ کا انتخاب ایک تخلیقی اور مہارت پر مبنی سلیکشن پراسیس کے ذریعے کیا جائے گا۔ اسکول تین سالہ ریاستی فنڈ شدہ پروگرام پیش کرے گا، جس کی تکمیل پر طلبہ کو ثانوی پیشہ ورانہ تعلیم کا ریاستی ڈپلومہ دیا جائے گا۔

اسکول میں ایک سائنس اور تخلیقی تحقیق کی لیبارٹری بھی قائم کی جائے گی، جو شیرعلی جُرایوف کے فن، خدمات اور ثقافتی ورثے پر تحقیقی کام کرے گی۔ اس سے نہ صرف ازبک موسیقی کی گہرائی کو سمجھنے میں مدد ملے گی بلکہ نوجوان فنکاروں کے لیے ایک فکری و فنی پلیٹ فارم بھی فراہم ہوگا۔

مزید برآں، اس ادارے میں ہر سال “شیرعلی جُرایوف میوزک اینڈ آرٹ مقابلہ” کا انعقاد بھی کیا جائے گا، جس میں ازبکستان کے علاوہ دیگر ممالک کے نوجوان فنکار شرکت کر سکیں گے۔

یہ ادارہ تھیوری کے ساتھ ساتھ ووکل، انسٹرومنٹل، تھیٹر اور پرفارمنس آرٹس پر بھی زور دے گا ۔ نمایاں صلاحیتوں کے حامل گریجویٹس کو یونیورسٹیوں کے متعلقہ بیچلر پروگرامز میں براہ راست دوسرے سال میں داخلے کا موقع بھی دیا جائے گا۔

اس اقدام کو ملک کی ثقافتی پالیسی کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے، جس کے تحت ازبکستان عالمی ثقافتی برادری میں اپنی شناخت کو مزید مضبوط بنانا چاہتا ہے۔ حکومت نے اس منصوبے کو مکمل سرکاری سرپرستی میں انجام دینے کا عندیہ دیا ہے۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں