شجر ممنوعہ اور عشق ممنوعہ

آؤ تاریخ کے اوراق پلٹیں اور چشم تصور سے دنیا کی کامیاب ترین شخصیات کی اعلیٰ صفات سمیت ان کے بلند کردار اور معجزات دیکھیں۔ اللہ ربّ العزت نے خاتم الاانبیاء کے ساتھ ساتھ اپنے دوسرے مقرب انبیاء کوکندن بنانے کیلئے ان سے بڑا کٹھن اورکڑا امتحان لیا تھا۔اللہ تعالیٰ کا ”قرب“ شدید ”کرب“ سے گزرے بغیر نہیں ملتا۔ اِنسانیت کے محسن اورنجات دہندہ، سرورکونین، تاجدارِانبیاء، امام الاانبیاء اور خاتم الاانبیاء حضرت سیّدنا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ واصحبہٰ وبارک وسلم سے حضرت عیسیٰ ؑ، حضرت یوسف ؑ، حضرت موسیٰ ؑ، حضرت اسماعیل ؑ،حضرت ابراہیم ؑ اور حضرت آدم ؑ تک، اللہ عزوجل کے اِن مقرب اور مقدس انبیاء کے بعدحضرت ابوبکرؓصدیق،حضرت عمرؓفاروق،حضرت عثمان غنی ؓ،اسد اللہ حضرت سیّدنا علیؓ المرتضیٰ،حضرت سیّدناامام حسن ؑ،حضرت سیّدنا امام حسین ؑاور حضرت محمدعلی جناح ؒ تک ان سبھی کے اوصاف حمیدہ میں ہمیں ”منتقم مزاجی“ نہیں ”مستقل مزاجی“، بردباری، رواداری اوربے پایاں وسعت قلبی ملے گی کیونکہ ہم انسانوں میں سے کوئی ”منتقم“ اچھا ”منتظم“ نہیں ہوسکتا۔ یادرکھیں تاجدار انبیاءؐ سمیت انبیاء کرام کا”راستہ“ انعام اورکامیابی وکامرانی سے”آراستہ“ ہے،انہیں ہم میں سے ہرکوئی مانتا ہے لیکن بدقسمتی سے ان کی ہر سنت ہرکوئی نہیں مانتا۔حضرت آدم ؑکو عزازیل یعنی ابلیس نے بہکایا اورانہیں ”شجرممنوعہ“ کے پا س جانے کی پاداش میں جنت جیسی نعمت سے محروم ہونا پڑا تھا جبکہ سراپاجمال حضرت یوسف ؑ نے”عشق ممنوعہ“کیخلاف بھرپور مزاحمت اوراستقامت کے نتیجہ میں کئی برسوں تک بامشقت قیدوبندکاسامنا تاہم بعدازاں آبرومندانہ رہائی کے بعد حکومت مصر میں اعلیٰ ترین منصب ملنے کے باوجود انتقامی سیاست سے گریزکیا تھا۔ حضرت آدمؑ سے حضرت یوسف ؑ اور سرورکونین حضرت سیّدنا محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحبہٰ وبارک وسلم تک تاریخ انبیاء کے ”اوراق“ اور”اسباق“میں بحیثیت قوم ہماری اصلاح اورفلاح کے کئی راز پنہاں ہیں۔

اس بات پرغور کریں،اگرحضرت آدم ؑ کو احکام الٰہی کی عدم اطاعت پر شجرممنوعہ کاپھل تناول کرنے کی پاداش میں جنت سے زمین پراتاردیا گیاتھا تو پھرکیوں نہ ہم اپنے اپنے”مال“ اور”اعمال“ پرغوراورسوچ بچارکریں،کیا ہمیں ہرایک ”ممنوعہ مقام“ پرجانے اورہرایک”ممنوعہ کام“ کرنے پرشہرخموشاں یا میدان محشر میں سخت سزا نہیں ملے گی۔راقم نے چندبرس قبل برادراسلامی ریاست ترکیہ کاشہرہ آفاق ٹی وی سیریل ”عشق ممنوعہ“ آغاز سے انجام تک بغور دیکھا تھا لہٰذاء میں ہمارے اورہمارے بعد آنیوالے عہد کے انسانوں اوربالخصوص ”نادانوں“ کویہ مفت لیکن مفیدمشورہ ضرور دوں گا،وہ بھی خود کو ہر شجر ممنوعہ اورعشق ممنوعہ سے کوسوں میل دوررکھیں اوراسلامی تعلیمات کی روسے مختلف ”ممنوعات“ کے”مضمرات“ سے مجرمانہ چشم پوشی نہ کریں۔برے کام کابراانجام اٹل ہے، جو تاریخی شہادتوں کے باوجود”عشق ممنوعہ“ میں پڑ تے ہیں انہیں بدترین بدنامی، رسوائی اورجگ ہنسائی کے سوا کچھ نہیں ملتا۔یادرکھیں ہماری عمر کی چاردہائیاں پوری ہونے سے قبل اوربعد کے گناہوں کی سزا میں زمین آسمان کافرق ہے۔کسی عالم اورجاہل جبکہ کسی حکمران اورعام آدمی کاکوئی گناہ برابر نہیں ہوسکتا۔حضرت واصف علی واصف ؒ نے کہا تھا،”بادشاہ کاگناہ،گناہوں کابادشاہ ہوتا ہے“۔میں اس پرفتن دورمیں شدید گھٹن اوردباؤ کے باوجود سوشل میڈیا پرزیرگردش ممنوعہ اورمتنازعہ مواد دیکھتا ہوں تو ڈرجا تا ہوں لیکن وہ مخصوص شخصیات جواس شرمناک مہم جوئی کا ہدف ہیں ان دونوں کے قلوب پرکیا گزرتی ہوگی۔ہروہ”عشق“جوفطری اورپاک نہ ہووہ”ممنوعہ“ ہے، سو یہ بری”لت“ ہردور میں ”ذلت“ کاسبب بنے گی۔بل کلنٹن کااپنے عہدصدارت میں ایک خاتون اہلکار کے ساتھ”عشق ممنوعہ“ اسے بدنام کرگیا تھا۔یادرکھیں جودانستہ دوسروں کی شرمناک ویڈیوز بنواتااور عزت اچھالتا ہے وہ عزت دارنہیں ہوسکتا لہٰذاء نیک ماں باپ اسلامی تعلیمات کی روسے اپنے بچوں کی بھرپور تربیت اورانہیں برے کام جبکہ دوسروں کوبدنام نہ کرنے کی نصیحت کرتے رہا کریں۔ ماضی کے حادثات اورسانحات میں بھی سیکھنے کیلئے بہت کچھ ہوتا ہے۔جو جان بوجھ کرغلطیاں دہرائے وہ زمین اوراپنی سرزمین کیلئے بوجھ بن جائے گا۔

میں قدرت کے نظام عدل وانصاف کاعینی شاہد اور قانون کاطالبعلم ہونے کی حیثیت سے یہ بات وثوق سے کہتا ہوں، سات پردوں میں کیاگیا کوئی مجرمانہ فعل بھی ہرگز زیادہ دیر نہیں چھپا کرتا۔ دِین فطرت اِسلام بھی اِنتقام نہیں انصاف کا حامی ہے،دوسروں کیلئے اپنے دل”صاف“ اور ایک دوسرے کو”معاف“ کرناسیکھیں کیونکہ جس دل میں دوسروں کیلئے حسد بھرا رہتا ہے اسے درد کے سوا کچھ نہیں ملتا۔اگر اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی مشیت اوراس کے محبوب کی شریعت کودیکھیں تو صرف مجرم کوسزادی جاسکتی ہے،اس کے عزیز واقارب کو کسی کرب سے نہیں گزارا جاسکتا۔ملزم کاعدالتی”ٹرائل“ اور”میڈیا ٹرائل“ کرنے میں زمین آسمان کافرق ہے۔راقم کے نزدیک ظرف سے”محروم“حکمران یا انسان کو”مرحوم“ کہنا بیجا نہیں ہوگا۔ جو حکمران اپنا تخت بچانے کیلئے کروڑوں انسانوں کی زندگی کوتختہ مشق بناتے ہیں وہ اپناانجام ضرور یادرکھیں۔تعجب ہے ہمارا حکمران طبقہ اورعام انسان دیواروں پرنصب بے جان وبے زبان”سی سی ٹی وی“اور قانون کی گرفت سے تو خوفزدہ رہتا ہے لیکن قادر،کارساز،قہار اور حاضروناظر اللہ عزوجل کے”جلال“ سے نہیں ڈرتا۔”زر“اور”زور“ کے بل پر دنیا میں درج مقدمات سے بریت مل سکتی ہے لیکن محشر میں جوحشر نشر ہوگااس یوم حساب کے احتساب سے ہمیں کوئی نہیں بچاسکتا۔

زندگی میں کامیابی وکامرانی اورنیک نامی کیلئے تدبر،فقر،صبروتحمل اورجہدمسلسل ناگزیر ہے۔ ہم میں سے کوئی ناقص بندہ سچے اللہ ربّ العزت کی اپنے کامل محبوب پر بینظیر”التفات“ اورسرورکونین ؐکے بامعنی ”القابات“ کی سیرحاصل تفسیر بیان کرنے کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔اللہ پاک نے براہ راست اوراپنے شایان شان اپنے محبوب کانام ومقام بلند کیا ہے لہٰذاء کوئی فتنہ پروربونا اس بلندی کو زمین بوس نہیں کرسکتا۔جس طرح دنیا کے آٹھ ارب انسان ایک دوسرے کے کندھوں پرکھڑے ہوکربھی آسمان کو نہیں چھوسکتے،اس طرح انسانوں کی آنکھوں سے اوجھل شیاطین،برے جنات اورہیومن سوسائٹیز میں دندناتے ان کے”درندے“ نما”کارندے“ اپنی اجتماعی طاقت اورخباثت استعما ل کرتے ہوئے بھی ناموس رسالتؐ کاعلم ہرگز سرنگوں نہیں کرسکتے سو ہم مسلمانوں کوبھی اپنے الفاظ کا”چناؤ“اوراپنا”جھکاؤ“ درست کرنا ہوگا۔راقم کی رائے میں ناموس رسالتؐ پرہونیوالے کسی بھی دلخراش اور ناکام حملے یابیہودہ فقروں کوکسی اجتماع میں دہرانا بھی گناہ ہے۔سرورکونین حضرت سیّدنا محمدرسول اللہ خاتم الاانبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ واصحبہٰ وبارک وسلم ہمارے سرداراور آقا جبکہ ہم ان کے حقیرغلام ہیں،راقم کے نزدیک کسی حقیرغلام کااپنے اعلیٰ مرتبت آقا کی پاک بارگاہ میں درودوسلام کانذرانہ پیش کرتے ہوئے”تم،تمہارا یاتمہارے“ ان الفاظ کااستعمال کرنا محبت،عزت،عقیدت اورادب کے منافی ہے لہٰذاء یہ محاورہ”باادب بامراداوربے ادب بے مراد“ ضروریادرکھیں اوران الفاظ کااستعمال ہرگز نہ کریں۔جہاں بے پایاں عزت نہ ہووہاں محبت اورعقیدت کادعویٰ نہیں کیاجاسکتا۔بارگاہ نبوت ؐ میں درودوسلام پیش کرنے کابڑا انعام ہے لہٰذاء مصطفی جان رحمت ؐ پہ”لاکھوں سلام“ نہیں بلکہ ”کھربوں سلام“ کہنا زیادہ موزوں ہے۔ جوغلام اپنے آقاپرایک درود بھیجتا ہے،اسے دس نیکیاں ملتی ہیں،اس کے دس درجے بلند اوراس کے دس گناہ معاف ہوتے ہیں توپھر غورکریں جو اپنے آقا کی نورانی صورت پرلاکھوں کی بجائے کھربوں سلام بھیجتا ہے یقینا اس غلام کاانعام بھی کھربوں کے حساب سے ہوگا۔

اپنے بندوں کے گناہوں کو اپنے شایان شان درگزرفرمانا اللہ ربّ العزت کی صفات میں شامل ہے لہٰذاء اس کے انبیاء بھی اپنی اپنی امت کے خطاء کاروں کو معاف فرمادیاکرتے تھے۔ جس قوی،قادراورکارساز اللہ ربّ العزت کی بے پایاں رحمت کواس کے غضب پرغلبہ حاصل ہے،اس معبودبرحق نے اپنے عزیز ترین محبوب کو انسانیت کیلئے سراپارحمت بنادیا۔ہمارے آقانے مکہ معظمہ میں فاتحانہ واپسی کے بعد اپنے عزیز ترین چچا حضرت حمزہ ؓ کی بے رحم قاتل ہندہ اورسہولت کار سیاہ فام حبشی غلام کوبھی نہ صرف معاف کردیا بلکہ انہیں اپنی غلامی میں قبول کرلیا تھا۔باب العلم اوراسد اللہ حضرت علی ؓالمرتضیٰ نے فرمایا تھا،تم دوسروں کواس طرح معاف کروجس طرح تم میں سے ہرکوئی اللہ تعالیٰ سے معافی چاہتا ہے۔ امیرالمومنین حضرت علی ؓالمرتضیٰ نے یہ نہیں فرمایا،”دوسرا تم سے معذرت کرے توپھر اسے معاف کرو“بلکہ ان کے قول کامفہوم ہے،”دوسروں کی معذرت کاانتظار کئے بغیر انہیں معاف اوران کیلئے اپنا دل صاف کردو“۔اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں مومنوں کو”انفاق“ پرابھارا ہے لیکن بدقسمتی سے ہم نے”نفاق“ کادامن تھام لیا۔دنیا میں ہرسال کلینڈر بدلتا ہے لیکن ہمارے حکمران ہنوز 9مئی 2023ء کے دائروں میں گھوم رہے ہیں۔جس پاکستان کوآگے بڑھنا تھا وہ پیچھے کی سمت جارہا ہے۔جہاں اقتدار کے ایوانوں میں ”انتقامی سیاست“ کاسورج سوانیزے پرآجائے وہاں ”انتظامی صلاحیت“نامی صنف نازک کا جھلس جانااٹل ہے۔اب بھی وقت ہے حکمران پاکستان کی ”ناؤ‘بچانے کیلئے اپنی”اناؤں“ کوقربان کردیں۔اسیر کپتان کامنصفانہ عدالتی”ٹرائل“ ضرورکریں لیکن اس کا”میڈیا ٹرائل“ فوری بندکردیں۔ اگرکپتان کی”رہائی“ سے ایران اورامریکہ کے درمیان امن تک”رسائی“ کاراستہ ہموار ہوسکتاہے تواسے رہاکرنے میں کوئی”برائی“ نہیں۔اگرایک دوسرے کی غلطیاں اورتلخیاں ”درگزر“ کرنے سے پاکستان تعمیرورترقی کی”ر ہ گزر“ پردوڑپڑے تو اس سے اچھا کیا ہوسکتا ہے۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں