شاہ رخ خان جو آج دنیا بھر میں بالی ووڈ کنگ کے طور پر جانے جاتے ہیں، زندگی میں کامیابی کی کئی منزلیں طے کر چکے ہیں، مگر ان کے دل میں ایک خواہش آج بھی موجود ہے اور ان کی خواہش وہ جو تعلیم کا وہ سفر ہے جو مکمل نہ ہو سکا۔
دہلی کے معروف تعلیمی ادارے "جامعہ ملیہ اسلامیہ” میں ماس کمیونیکیشن میں داخلہ لینے کے باوجود شاہ رخ خان اپنی ماسٹرز ڈگری مکمل نہ کر سکے۔ اس کی وجہ ایک ایسا لمحہ تھا، جو نہ صرف ان کی تعلیم کا اختتام بنا بلکہ انہیں زندگی بھر کے لیے افسوس کا سبب بھی دے گیا۔
ایک انٹرویو میں شاہ رخ نے بتایا کہ وہ اپنی پڑھائی کے دوران فلم ‘فوجی’ کی شوٹنگ بھی کر رہے تھے۔ ایک دن جب وہ لائبریری میں امتحان کی تیاری کر رہے تھے تو ان کے پرنسپل نے آ کر ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا، اگر میرے بس میں ہوتا تو تمہیں امتحان دینے کی اجازت نہ دیتا۔
شاہ رخ کا کہنا تھا کہ ’اس وقت میں بھی اپنی جوانی کے نشےمیں تھا ، پلٹ کر پرنسپل کو جواب دیا کہ اگر ایسا ہے تومیں بھی امتحان نہیں دینا چاہتا اور باہر نکل گیا۔
دوران گفتگو شاہ رخ نے اپنے رویے کو بچپن کی حماقت، بد تمیزی اور گھٹیا پن قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہی وہ بیوقوفی تھی جس کی وجہ سے میں پریکٹیکل مکمل کرنے کے باوجود اپنے فائنل امتحانات نہیں دے پایا۔
شاہ رخ آج بھی اس فیصلے کو ناپختہ ذہن کی غلطی مانتے ہیں ، انہوں نے اس موقع پر یہ بھی کہا کہ اگر وہ تعلیم مکمل کر لیتے، تو شاید آج بھی بڑی کامیابی حاصل کرتے، کیونکہ تعلیم انسان کو صرف ڈگری نہیں دیتی، بلکہ اس کی سوچ اور راستے بدل دیتی ہے۔
شاہ رخ خان نوجوانوں کو یہ پیغام بھی دیتے ہیں کہ چاہے زندگی میں کچھ بھی ہو جائے، تعلیم کا سفر کبھی نہ چھوڑیں، کیونکہ یہ وہ خزانہ ہے جو ہر کامیابی سے بڑا ہوتا ہے۔