لاہور کے شاہ جی باکسر، جو نوجوانوں کو سماجی خرابیوں سے بچانے کے لیے باکسنگ سکھاتے ہیں

صبح صادق کا وقت ہے، لاہور کے جیلانی پارک میں چار سوں ہیر پھیر ہے۔ لاہوریوں کی ایک کثیر تعداد ورزش میں مصروف ہیں۔ یعنی کھوے سے کھوا چھل رہا ہے اور شفق سرخی بہ مائل کی اور بڑھ رہا ہے۔ ہوا میں عجب لالہ زار کھلنے سے پرندوں کی چہچہاہٹ مسرور کر رہی ہے۔

اسی اثناء میں ادھیڑ عمر کا شاہ جی پارک میں قدم رکھتے ہیں اور نوجوان احتراما کھڑے ہو کر کرسی سیدھی کرلیتے ہیں۔ اگلے لمحے شاہ جی کی زیر نگرانی تلاوت کلام پاک سے باکسنگ کی تربیت کا عمل شروع ہوتا ہے۔

پورا نام شاہد رسول ہے لیکن شاہ جی باکسر کے نام سے مشہور و معروف ہے۔ زمانہ طالب علمی میں باکسنگ میں ان کا چرچا رہتا تھا۔ قومی سطح پر اپنا لوہا منوایا اور بیرون ملک دورے کیے، لیکن 2009 میں ایک حادثے نے ان کی زندگی کا کھایا پلٹ دیا گویا انہیں نئی مقصد حیات دے گیا۔

شاہ جی باکسر روزانہ صبح سویرے ریس کورس پارک (جیلانی پارک) میں کئی نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کو بلامعاوضہ باکسنگ کی تربیت دیتے ہیں۔ قومی سطح پر اپنا لوہا منوانے والے شاہد رسول نے 2009 میں ایک حادثے کے بعد باکسنگ کو الوداع کہا لیکن جذبہ جوان تھا، اور اپنے استاد کی وفات کے بعد اس کھیل کو نوجوانوں تک پہنچانے کا فیصلہ کیا۔

تاشقند اردو سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ “میں نے 1992 میں باکسنگ کا آغاز کیا اور محض دو سالوں میں بین الاقوامی کھیلوں میں جگہ بنانے میں کامیاب ہوا۔ 1998 تک میں نے متعدد بار بیرون ملک دورے کیے اور عالمی کھیلوں میں حصہ لیا۔”

شاہ جی قومی سطح پر سونے کے تمغوں سمیت کئی انعامات حاصل کرچکے ہیں۔ نوجوانوں کو سماجی خرابیوں سے بچانے کے لیے انہوں نے مفت باکسنگ تربیت دینے کے لیے گراؤنڈ سنبھالنے کا یہ سلسلہ در اصل اپنے استاد محمد یوسف بٹ کی وفات کے بعد شروع کیا۔

وہ کہتے ہیں کہ “ میرا مقصد یہ ہے کہ بچے غلط کاموں میں نہ پڑ جائیں اور انہیں گیم کا شوق پیدا ہو۔ بچوں کو ایک بار میدان کا نشہ لگ گیا تو سمجھنا چاہیے کہ وہ ٹھیک راستے پر چل پڑے ہیں۔“
یعنی باقاعدہ کورس کوچنگ کے ذریعے چلنے والے اس سلسلے کا مقصد درحقیقت نوجوانوں کو بے راہ روی، نشوں اور دیگر سماجی خرابیوں سے بچانا ہے۔

شاہ جی نے مزید کہا کہ “میں نے کالج کے زمانے سے اس وقت باکسنگ شروع کی جب میں اسلامیہ کالج سول لائن میں پڑھتا تھا۔ ہمارے سپورٹس کے استاد ملک مقبول صاحب ہوتے تھے، جو فوت ہوگئے ہیں، مجھے لینے میرے گھر آئے تھے اور دعوت دی تھی کہ آپ ہمارے کالج کی طرف سے کھیلیں۔”

“میں نے سول لائن کی طرف سے تین دفعہ رول آف ہانر لیا۔ ایک دفعہ وٹو صاحب، پھر صدر تارڑ صاحب سے، اور گورنر خالد مقبول صاحب سے۔”

شاہ جی کا کہنا تھا کہ “ہم روز مختلف ٹریننگ کرتے ہیں۔ اس کام کو محض وقت گزاری کا ذریعہ نہیں سمجھتا بلکہ کوشش کرتا ہوں کہ بچوں کو اپنی آنکھوں کے سامنے ٹریننگ دوں۔ادھر لڑکیاں اور لڑکے دونوں آتے ہیں۔ لڑکیاں بڑی شوق سے سیکھتی ہیں اور کہتی ہیں ہمیں سلیف ڈیفنس سکھائیں۔”

شاہ جی کے مطابق جو کھیلنا نہیں چاہتے لیکن تندرست اور توانا رہنا چاہتے ہیں، ان کے لیے باکسنگ سے بہتر کوئی کھیل نہیں۔ اسی طرح موجودہ حالات کے پیش نظر اسے سیلف ڈیفنس کے طور پر بھی سیکھنا چاہیے۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں