پاکستان میں سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ آپریشن غضب للحق کے بعد صوبہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس آپریشن کے نتیجے میں دہشت گردی کے واقعات میں تقریباً 65 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جبکہ صوبے میں امن و امان کی مجموعی صورتحال میں بھی بہتری آئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق رواں سال اب تک صوبے میں 323 دہشت گردی کے واقعات پیش آئے ہیں، جبکہ آپریشن کے آغاز سے قبل یہ تعداد 240 تھی۔
سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ کارروائیوں کے دوران حملوں کی منصوبہ بندی کرنے والے اہم افراد کو نشانہ بنایا گیا، جس سے شدت پسند نیٹ ورکس کو نقصان پہنچا۔
ذرائع کے مطابق افغان عبوری حکومت کو بھی دہشت گردوں اور ان کے مبینہ ٹھکانوں سے متعلق معلومات فراہم کی گئی ہیں، تاکہ سرحد پار موجود عناصر کے خلاف کارروائی کو مؤثر بنایا جا سکے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہے اور اس مقصد کے لیے کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔