حکومت پنجاب نے 8 فروری کو صوبہ بھر میں سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر دفعہ 144 نافذ کر دی، جس کے تحت سیاسی احتجاج، جلسے، جلوس، ریلیوں اور دھرنوں پر پابندی عائد ہوگی۔
حکام کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ، دفعہ 144 کا نفاذ صوبے میں امن و امان برقرار رکھنے، شہریوں کی جان و مال کے تحفظ اور کسی بھی ممکنہ ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے کیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ کابینہ کمیٹی برائے امن و امان اور صوبائی انٹیلی جنس کمیٹی کی سفارش پر کیا گیا۔
اس فیصلے کے باوجود، پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے 8 فروری کو صوابی میں جلسہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ پارٹی کے سیکریٹری جنرل، سلمان اکرم راجا نے اپنے بیان میں کہا کہ، ان کی جماعت کا انتشار پھیلانے یا کسی تصادم میں الجھنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ، جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ، مولانا فضل الرحمٰن عوام کے خلاف کھڑے نہیں ہوں گے۔
سلمان اکرم راجا نے مزید کہا کہ، پی ٹی آئی عدلیہ پر کسی بھی قسم کے حملے کی مخالفت کرے گی اور جو بھی ساتھ دینا چاہے، وہ دے سکتا ہے۔
گزشتہ روز لاہور کی ضلعی انتظامیہ نے پی ٹی آئی کو 8 فروری کو جلسہ کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا۔ انتظامیہ کا مؤقف تھا کہ، اس روز لاہور میں کئی اہم تقریبات منعقد ہوں گی، جن میں کرکٹ میچ، کیٹل شو اور اسپیکر کانفرنس شامل ہیں، اس لیے کسی سیاسی جلسے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
نوٹیفکیشن میں مزید کہا گیا کہ، پی ٹی آئی کے سابقہ ٹریک ریکارڈ اور 9 مئی کے واقعات کے پیش نظر انہیں جلسہ کرنے کی اجازت دینا مناسب نہیں ہوگا۔
پی ٹی آئی پنجاب کی چیف آرگنائزر، عالیہ حمزہ نے 29 جنوری کو اعلان کیا تھا کہ، 8 فروری کو ان کی جماعت کے مینڈیٹ پر شب خون مارا گیا، جس کے خلاف وہ مینار پاکستان پر جلسہ کریں گے۔
انہوں نے کہا تھا کہ، اگر مینار پاکستان پر جلسے کی اجازت نہیں دی گئی تو قانونی راستہ اختیار کیا جائے گا۔ عالیہ حمزہ نے واضح کیا کہ، ان کی جماعت اس مرتبہ کسی قدغن کو قبول نہیں کرے گی اور جلسے کا کوئی مخصوص وقت مقرر نہیں ہوگا، لیکن اگر اجازت نہ ملی تو وہ اس دن کو یوم سیاہ کے طور پر منائیں گے۔