اپنی پیداوار اور مٹھاس کے لیے مشہور سرگودھا سے تعلق رکھنے والا اردو ادب کا طالب علم عمر فاروق تعفن زدہ اس دور میں نہ صرف تازہ ہوا کا جھونکا ہے بلکہ بے روز گاری سے پریشان اور مایوس نوجوانوں کے لیے امید کی کرن بھی ہے۔سرگودھا یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہوتے ہی لاہور میں سکونت اختیار کرنے کے بعد اس نوجوان کا عمومی وقت آج کل پٹیالہ ہاؤس سے جی پی او لاہور اور وہاں سے اردو بازار کا بامعنی مٹر گشت کرتے گزر جاتا ہے۔
اردو کتابوں کے قاری ہونے کے ناطے عمر فاروق کتب بینی کا شوق رکھتا ہے اور جدید دور میں سوشل میڈیا کے بہتر استعمال سے بھی واقفیت ہے ۔ اردو ادب میں داخلے کے بعد انہوں نے سوشل میڈیا پر ” کونسی کتاب کیسی ہے؟” کے عنوان سے ایک گروپ تشکیل دیا، جس کے بعد وہاں کتب کے مختلف پہلوؤں پر تبصروں کا گویا تانتا بندھ گیا۔ عمر خود بھی وہاں کتابوں پر تبصرے شائع کرتا تھا جبکہ دیگر لوگ بھی ساتھ ملتے گئے۔
اسی دوران فیس بک پر قیام پانے والے اس کتب نما گروپ کے فالورز دولاکھ کا ہندسہ عبور کرگئے۔ یعنی ‘لوگ آتے گئے اور قافلہ بنتا گیا’۔ عمرفاروق کہتے ہیں کہ ‘ مجھے اس قدر امید نہیں تھی کہ یہ گروپ اتنا پروان چڑھ جائے گا۔ حیرت انگیز طور پر دو سال تک تین ہزار لوگ ہی بمشکل جڑ پائے تھے کہ مستقل مزاجی کی وجہ سے اس کو بوسٹ ملا۔دوستوں نے بھی اس کام میں سپورٹ کیا اور پچھلے ایک سال میں اس کے فالوورز کی تعداد دو لاکھ تیس ہزار تک پہنچ گئی "۔
اتنے بڑے سرکل کی وجہ سے دنیا بھر سے لوگ عمر کے ساتھ رابطے میں آگئے۔ لوگوں نے یہ بھی پوچھنا شروع کیا کہ انہیں لاہور میں کوئی بااعتماد سیلر سے تعارف کروادیں تاکہ وہ ان سے مناسب قیمت کے ساتھ اپنی پسند کی کتابیں منگوا سکیں۔ لاہور منتقل ہونے کے بعد عمر نے سوچا کیوں نا وہ یہ کام خود شروع کرے۔ عمرفاروق نے تاشقند اردو کو بتایا کہ’ یہ بیڑا میں نے پھر اٹھایا اور ایک شوقیہ بزنس متعارف کراتے ہوئے اپنی تحریک کا نام ‘کونسی کتاب چاہیے؟’ کے عنوان سے رکھا’۔
عمر کی کہانی کی طرح ان کے کام کا طریقہ بھی مختلف اوردلچسپ ہے۔ ہے تو وہ ایک طالب علم اور ہاسٹل میں اکیلے رہائش پزیر لیکن بزنس کا عمل کسی بڑے پبلشنگ ہاؤس سے کم نہیں۔عمر کے مطابق ‘ اس کا طریقہ کار یہ ہوتا ہے کہ لوگ مجھ سے اپنی فہرست شیئر کرلیتے ہیں۔ اگلے لمحے میں اردو بازار یا اتوار بازار جا کر ان کتابوں کا بندوبست کرلیتا ہوں۔ وہاں سے کتابیں لے کر جی پی او آفس سے اس کی پیکنگ کرانے کے بعد منزل کی جانب روانہ کرتا ہوں”۔
پٹیالہ ہاؤس سے متصل مال روڈ پر سپیڈو بس گزرتی ہے۔ اس روٹ پر جی پی او آفس اور لاہور کا انارکلی بازار بھی آتا ہے۔ یہی عمر کے سفر کا ذریعہ ہے۔
عمر کی ‘کونسی کتاب کیسی ہے؟’ نے لوگوں میں انہیں با اعتماد فرد کے طورپر مشہور کردیا۔ عمر بتاتے ہیں کہ’ان سے کتابیں منگوانے والوں میں نوے فیصد شرح خواتین کی ہیں۔ شاید خواتین کے لیے گھر بیٹھے کتابیں منگوانا اس طرح آسان لگتا ہوں جبکہ ان کے لیے بازاروں کی خاک چھاننا بھی قدرے مشکل ہوتا ہیں۔
عمر کو حال ہی میں بیرون ملک سے بھی آرڈرزموصول ہوئے ہیں ۔انہوں نے بتایا کہ ‘کینیڈا سے چند خواتین نے کتب سے متعلق تفصیلات مانگی ہیں’۔ مایوسی کے عالم سے دوچار نوجوان ہر اس کاروبار سے عار محسوس کرتے ہیں، جس میں خاک اڑانی پڑے۔ تاہم، عمر ایسے تمام طالب علموں اور نوجوانوں کے لیے مشعل راہ ثابت ہوسکتے ہیں جو اپنے شوق کو کاروبار کا رنگ دینا چاہتے ہیں ۔