سام سنگ کا بڑا اعلان، اے آئی ٹیکنالوجی ہر ڈیوائس میں شامل کرنے کا منصوبہ

جنوبی کوریا کی معروف ٹیکنالوجی کمپنی سام سنگ نے اعلان کیا ہے کہ وہ 2026 تک مصنوعی ذہانت سے لیس اپنے موبائل ڈیوائسز کی تعداد دوگنی کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ کمپنی کے مطابق گوگل کے جیمنائی اے آئی سسٹم سے چلنے والے سام سنگ ڈیوائسز کی تعداد 800 ملین تک پہنچائی جائے گی، جبکہ اس وقت یہ تعداد تقریباً 400 ملین ہے۔

سام سنگ الیکٹرونکس کے شریک چیف ایگزیکٹو ٹی ایم روہ نے کہا ہے کہ کمپنی کا ہدف ہے کہ وہ جلد از جلد اپنی تمام مصنوعات، فیچرز اور خدمات میں مصنوعی ذہانت کو شامل کرے۔ ان کے مطابق اے آئی ٹیکنالوجی مستقبل میں صارفین کی روزمرہ زندگی کا اہم حصہ بن جائے گی اور اس کے استعمال میں تیزی سے اضافہ ہوگا۔

سام سنگ اس منصوبے کے ذریعے اسمارٹ فون مارکیٹ میں ایپل سے اپنی کھوئی ہوئی برتری واپس حاصل کرنا چاہتی ہے، جبکہ موبائل فونز، ٹی وی اور گھریلو آلات کے شعبوں میں چینی کمپنیوں سے بڑھتے ہوئے مقابلے کا بھی سامنا کر رہی ہے۔ کمپنی صارفین کو مربوط اے آئی سہولیات فراہم کر کے اپنی پوزیشن مضبوط بنانے پر کام کر رہی ہے۔

ٹی ایم روہ کے مطابق سام سنگ کے گلیکسی اے آئی برانڈ کے بارے میں صارفین کی آگاہی ایک سال کے دوران نمایاں طور پر بڑھی ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ صارفین مصنوعی ذہانت کے فیچرز میں زیادہ دلچسپی لے رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آنے والے چند مہینوں میں اے آئی ٹیکنالوجی مزید عام ہو جائے گی۔

دوسری جانب سام سنگ نے عالمی سطح پر میموری چپس کی قلت کو ایک سنجیدہ مسئلہ قرار دیا ہے۔ کمپنی کے مطابق اس قلت کے باعث اسمارٹ فونز اور دیگر الیکٹرانک مصنوعات کی قیمتوں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے، تاہم سام سنگ اس اثر کو کم کرنے کے لیے طویل مدتی حکمتِ عملی پر کام کر رہی ہے۔

سام سنگ نے فولڈیبل فونز کے بارے میں بھی بتایا کہ اگرچہ اس شعبے میں ترقی توقع سے سست رہی ہے، لیکن آنے والے دو سے تین برسوں میں یہ فونز عام صارفین میں مقبول ہو سکتے ہیں۔ کمپنی کے مطابق فولڈیبل فون استعمال کرنے والے زیادہ تر صارفین دوبارہ اسی قسم کے فون خریدنے کو ترجیح دیتے ہیں

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں