پاکستان کے اوپننگ بیٹر صاحبزادہ فرحان نے کہا ہے کہ ٹی ٹوئنٹی فرنچائزز پاکستانی کھلاڑیوں میں دلچسپی رکھتی ہیں، تاہم دی ہنڈرڈ کی آئندہ نیلامی میں کس کھلاڑی کا انتخاب ہوتا ہے یہ ان کے اختیار میں نہیں ہے۔ 29 سالہ فرحان ان ساٹھ سے زائد پاکستانی کرکٹرز میں شامل ہیں جنہوں نے اگلے ماہ ہونے والی پہلی ہنڈرڈ نیلامی کے لیے اپنا اندراج کرایا ہے۔
بی بی سی سپورٹس کی رپورٹ کے مطابق، بھارتی ملکیت والی فرنچائزز پاکستانی کھلاڑیوں پر غور نہیں کر رہی رہیں۔ اس حوالے سے صاحبزادہ فرحان نے کہا ہے کہ "یہ ہمارے ہاتھ میں نہیں کہ کون ہمیں چنتا ہے اور کون نہیں۔ جو بھی ہمیں منتخب کرنا چاہے ہم اس لیگ میں کھیلنے کے لیے تیار ہیں۔ ایسا نہیں کہ لوگوں کو ہم میں دلچسپی نہیں۔”
یاد رہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان جاری سیاسی کشیدگی کے باعث پاکستانی کھلاڑی انڈین پریمیئر لیگ میں شرکت نہیں کرتے، اور یہی رجحان آئی پی ایل سے منسلک دیگر فرنچائزز میں بھی دیکھا جا رہا ہے۔ انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ نے گزشتہ برس دی ہنڈرڈ کی ٹیموں میں حصص فروخت کیے تھے،جس کے بعدچار ٹیمیں بھارتی فرنچائزز کی جزوی یا مکمل ملکیت میں آ چکی ہیں۔
صاحبزادہ فرحان اس وقت ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے بیٹر ہیں اور انہوں نے گروپ مرحلے میں نمیبیا کے خلاف شاندار سنچری بھی اسکور کی۔ انہوں نے نیلامی کے لیے پچاس ہزار پاؤنڈ کی بنیادی قیمت مقرر کی ہے جو بعض دیگر کھلاڑیوں کی قیمت سے نصف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر کھلاڑی کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ بڑی اور معیاری لیگز میں کھیلے، اور دی ہنڈرڈ دنیا کی بہترین لیگز میں شمار ہوتی ہے، اس لیے وہ پرامید ہیں کہ بہتر موقع ملے گا۔
پاکستانی اسکواڈ کے پندرہ میں سے تیرہ کھلاڑیوں نے نیلامی کے لیے رجسٹریشن کرائی ہے، جبکہ فخر زمان اور سابق کپتان بابر اعظم اس فہرست میں شامل نہیں۔ بائیں ہاتھ کے فاسٹ بولر شاہین آفریدی، حارث رؤف اور آل راؤنڈر صائم ایوب ان کھلاڑیوں میں شامل ہیں جنہوں نے ایک لاکھ پاؤنڈ کی بلند ترین بنیادی قیمت کے ساتھ اندراج کرایا ہے۔ شاہین اور حارث اس سے قبل دی ہنڈرڈ میں شرکت بھی کر چکے ہیں۔
ادھر انگلینڈ کے کپتان ہیری بروک نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ اگر پاکستانی کھلاڑی اس لیگ میں شامل نہ کیے گئے تو یہ افسوسناک ہوگا۔ اسی تناظر میں انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ نے اتوار کے روز تمام آٹھ فرنچائزز کو خط لکھ کر انہیں امتیازی سلوک سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کی یاد دہانی بھی کرائی ہے۔