بھارت میں جاری اے آئی سمٹ کے دروان ‘روبوٹک کتے’ کے تنازع نے کیسے جنم لیا؟

نئی دہلی میں جاری مصنوعی ذہانت کے عالمی کانفرنس کے دوران ایک نجی بھارتی یونیورسٹی کو اس وقت شدید شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا جب اس کے اسٹال پر رکھے گئے ایک روبوٹک کتے کے بارے میں کیا گیا دعویٰ متنازع بن گیا۔

حکومتی ذرائع کے مطابق، گلگوٹیئس یونیورسٹی کو بدھ کے روز اجلاس سے اپنا اسٹال ہٹانے کی ہدایت کی گئی، کیونکہ یونیورسٹی کی ایک پروفیسر نے اس روبوٹ کو یونیورسٹی کی اپنی ایجاد قرار دیا تھا، حالانکہ بعد میں معلوم ہوا کہ یہ چین میں تیار کیا جانے والا تجارتی طور پر دستیاب ماڈل ہے۔

دو سرکاری عہدیداروں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایسوسیی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ گلگوٹئیس یونیورسٹی کو یہ ہدایت اُس وقت دی گئی جب یونیورسٹی کی شعبۂ ابلاغیات کی پروفیسر نہا سنگھ نے سرکاری نشریاتی ادارے ڈی ڈی نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ “اورین” نامی روبوٹک کتا یونیورسٹی کے میں تیار کیا گیا ہے۔ تاہم سوشل میڈیا صارفین نے جلد ہی اس روبوٹ کی شناخت کر لی اور بتایا کہ یہ دراصل چینی کمپنی یونی ٹری روبوٹکس کا تیار کردہ ماڈل “یونٹری گو ٹو” ہے، جس کی ابتدائی قیمت تقریباً سولہ سو امریکی ڈالر ہے اور جسے تحقیق اور تعلیم کے شعبوں میں وسیع پیمانے پر استعمال کیا جاتا ہے۔

بدھ کے روز صحافیوں سے گفتگو میں نہا سنگھ نے وضاحت کی کہ انہوں نے واضح طور پر یہ دعویٰ نہیں کیا تھا کہ روبوٹ یونیورسٹی کی اپنی تخلیق ہے بلکہ اسے صرف ایک نمائش کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔ دوسری جانب گلگوٹیئس یونیورسٹی نے ایک بیان میں کہا کہ وہ اس واقعے پر “گہرے دکھ” کا اظہار کرتی ہے اور اسے ایک منفی مہم قرار دیا جس سے طلبہ کے حوصلے پست ہو سکتے ہیں، جو عالمی ٹیکنالوجی سے سیکھ کر جدت کی کوشش کر رہے ہیں۔

یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب بھارت خود کو مصنوعی ذہانت اور جدید صنعتوں کے عالمی مرکز کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری متوجہ کرنے کے ساتھ ساتھ مقامی جدت اور ساکھ پر زور دے رہا ہے۔

اجلاس کا آغاز پیر کے روز کچھ انتظامی مسائل کے ساتھ ہوا تھا، جب شرکا اور نمائش کنندگان نے طویل قطاروں اور تاخیر کی شکایات کیں۔ بعض افراد نے یہ بھی کہا کہ ان کی ذاتی اشیا اور نمائش کے لیے رکھے گئے سامان غائب ہو گئے تھے۔

یہ پانچ روزہ “انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ” عالمی جنوبی خطے کا ایک اہم پروگرام قرار دیا جا رہا ہے، جس میں کم از کم بیس ممالک کے سربراہان اور حکومتوں کے نمائندے شریک ہیں، جن میں فرانس کے صدرایمانوئل میکرون اور برازیل کے صدر بھی شامل ہیں۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں