پاکستان میں موجود افغان سیٹیزن کارڈ (اے سی سی) ہولڈرز کے لیے حکومت کی جانب سے دی گئی رضاکارانہ واپسی کی مہلت ختم ہو چکی ہے، اور افغان مہاجرین کو ملک بدر کرنے کا دوسرا مرحلہ آج (جمعرات) سے باضابطہ طور پر شروع ہو رہا ہے۔
حکومت نے پہلے ہی افغان سیٹیزن کارڈ رکھنے والے افراد کی وطن واپسی کے لیے 31 مارچ کی ڈیڈ لائن مقرر کر رکھی تھی۔ عالمی برادری کی جانب سے اس مہلت میں توسیع کی درخواست کے باوجود حکومت نے اپنے فیصلے پر قائم رہنے کا اعلان کیا تھا۔
پشاور میں افغان کمشنریٹ کے ایک سینئر عہدیدار کے مطابق، اگرچہ سرکاری مہلت 31 مارچ کو ختم ہو چکی تھی، لیکن عید الفطر کے پیش نظر صوبائی حکومت نے اس میں 2 اپریل تک عارضی نرمی کی تھی۔ اب جب کہ یہ مہلت بھی ختم ہو چکی ہے، حکومت نے لنڈی کوتل اور ناصر باغ روڈ پر افغان مہاجرین کے لیے کیمپ قائم کر دیے ہیں تاکہ ان کے انخلا کے عمل کو منظم کیا جا سکے۔
عید کے باعث دی گئی مختصر نرمی سے سرکاری حلقوں میں بعض ابہام پیدا ہوئے، اور کچھ ذرائع نے تجویز دی کہ وطن واپسی کی ڈیڈ لائن میں باضابطہ توسیع کی جائے۔
بین االاقوامی میڈیا کی جانب سے متضاد خبریں سامنے آ رہی ہیں، فرانسیسی خبر رساں ادارے ‘اے ایف پی’ کے مطابق ملک بدری کی کارروائی آئندہ ہفتے کے آغاز تک موخر کر دی گئی ہے۔ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) نے دعویٰ کیا کہ 10 اپریل تک افغان شہریوں کی گرفتاریوں اور ملک بدری کو روک دیا گیا ہے۔
جڑواں شہروں (اسلام آباد اور راولپنڈی) میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ذرائع کا کہنا ہے کہ افغان مہاجرین کی واپسی کے لیے ڈیڈ لائن خاموشی سے 10 اپریل تک بڑھا دی گئی ہے، تاہم اس کا باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔
تاہم، وزارت داخلہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے ان خبروں کی تردید کرتے ہوئے واضح کیا کہ ڈیڈ لائن میں کوئی باضابطہ توسیع نہیں کی گئی، اور مہاجرین کے انخلا کا عمل شیڈول کے مطابق جاری رہے گا۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، ستمبر 2023 سے اب تک 69 ہزار 494 افغان خاندانوں کو واپس بھیجا جا چکا ہے، جن میں مجموعی طور پر 4 لاکھ 73 ہزار 397 افراد شامل ہیں۔ ان میں1 لاکھ 57 ہزار 513 مرد،1 لاکھ 11 ہزار 381 خواتین جبکہ1 لاکھ 97 ہزار 821 بچے شامل ہیں۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے ترجمان قیصر خان آفریدی نے پاکستانی حکومت کی اس پالیسی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ افغان سیٹیزن کارڈ ہولڈرز میں ایسے افراد بھی شامل ہو سکتے ہیں جنہیں بین الاقوامی تحفظ کی ضرورت ہو۔
انہوں نے کہا کہ یو این ایچ سی آر حکومت پر زور دے رہا ہے کہ وہ افغان مہاجرین کی صورتحال کو انسانی ہمدردی کے تناظر میں دیکھے اور پاکستان اور افغانستان کے درمیان سفارتی روابط کو مضبوط کرے تاکہ واپسی کا عمل رضاکارانہ اور باعزت ہو۔
افغانستان کے عبوری نائب وزیر اعظم مولوی عبدالکبیر نے پاکستان سمیت دیگر سرحدی ممالک سے درخواست کی ہے کہ وہ افغان مہاجرین کے ساتھ انسانی بنیادوں پر نرمی کا مظاہرہ کریں۔
افغان حکومت نے اپنے ایک بیان میں اس موقف کا اعادہ کیا کہ افغان مہاجرین کو زبردستی بے دخل کرنے کے بجائے، انہیں باعزت اور رضاکارانہ طور پر واپسی کا موقع فراہم کیا جائے۔ ساتھ ہی پاکستان اور ایران سے کہا گیا کہ وہ افغان شہریوں کی جبری ملک بدری کا عمل فوری طور پر روکیں۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں