پاکستان: 7.41 روپے کا ریلیف عارضی، بجلی کےبنیادی ٹیرف میں کمی نہیں کی جائے گی، حکومت

حکومت پاکستان نے واضح کر دیا ہے کہ، فی الحال بجلی کے بنیادی نرخوں میں کوئی کمی نہیں کی جا رہی، البتہ ایک روپے 90 پیسے فی یونٹ کی منفی سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ شرح سود اور ڈالر کی قیمت میں اتار چڑھاؤ کے مطابق قیمت متعین کرےگی۔ ساتھ ہی حکومت نے یہ عندیہ بھی دیا ہے کہ پیٹرولیم لیوی میں اضافے کے باوجود 1 روپے 71 پیسے فی یونٹ کا ریلیف آئندہ مالی سال تک جاری رکھا جا سکتا ہے۔
اسلام آباد میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر توانائی، اویس لغاری نے تسلیم کیا کہ، سی پیک کے تحت قائم تمام نجی بجلی گھروں کو حکومتی تحفظ حاصل ہے، تاہم ان سے متعلق قرضوں کی تنظیم نو اور درآمدی کوئلے سے مقامی کوئلے پر منتقلی کی بات چیت جاری ہے، اور یہ عمل درست سمت میں گامزن ہے۔ انہوں نے کہا کہ، جو بھی مالی فائدہ حاصل ہوگا، وہ صارفین تک منتقل کیا جائے گا۔
وزیر کا کہنا تھا کہ، عالمی مالیاتی ادارے خاص طور پر آئی ایم ایف، بجلی کی قیمتوں میں فوری کمی کے حق میں نہیں ہوتے، لیکن ان سے متعدد بار مشاورت کے بعد یہ بات منوائی گئی ہے کہ، اگر اصلاحات کو مستقل بنیادوں پر اپنایا جائے، تو اگلے تین سے چار سال میں بجلی کی قیمتوں میں نمایاں کمی ممکن ہے۔
پاور ڈویژن نے نیپرا کی عوامی سماعت میں بتایا کہ، پیٹرولیم لیوی میں 10 روپے فی لیٹر اضافے کے باوجود، اپریل سے جون کی سہ ماہی میں 1 روپے 71 پیسے فی یونٹ کا ریلیف دیا جائے گا۔ اس کے علاوہ 1 روپے 90 پیسے فی یونٹ کی منفی سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ بھی انہی مہینوں کے دوران لاگو کی جائے گی۔
مزید یہ کہ، 1 روپے 36 پیسے فی یونٹ کی منفی فیول ایڈجسٹمنٹ میں سے 46 پیسے صرف اپریل کے لیے ہوں گے، جب کہ بقیہ 90 پیسے اپریل تا جون برقرار رہیں گے۔ یوں کل ملا کر 4 روپے 97 پیسے فی یونٹ کی کمی ہوگی، جبکہ حکومت کو توقع ہے کہ، تیسری سہ ماہی میں مزید 1 روپے فی یونٹ کی کمی ہوگی، جس سے مجموعی کمی 5 روپے 98 پیسے فی یونٹ تک پہنچ جائے گی۔ اس کا باضابطہ اعلان وزیر توانائی کی پریس کانفرنس کے دوران پاور سیکریٹری، ڈاکٹر فخر عالم نے کیا۔
حکومت کا کہنا ہے کہ، اس مجموعی ریلیف میں 1 روپے 42 پیسے فی یونٹ کا مزید فائدہ سیلز ٹیکس میں کمی کی وجہ سے بھی شامل ہوگا، جس کے بعد وزیراعظم کی جانب سے اعلان کردہ مجموعی ریلیف 7 روپے 41 پیسے فی یونٹ تک جا پہنچا ہے۔ تاہم وزیر نے واضح کیا کہ، یہ سب کچھ اسی صورت برقرار رہ سکے گا جب فوری اصلاحات کو لاگو کیا جائے۔
اویس لغاری نے اس بات کی تصدیق کی کہ، کوارٹر ٹیرف ایڈجسٹمنٹ شرح تبادلہ اور شرح سود میں تبدیلی سے منسلک رہے گی، اور پیٹرولیم لیوی میں کیا گیا 10 روپے فی لیٹر اضافہ آئندہ سال تک برقرار رکھا جائے گا، تاکہ بجلی کی قیمت پر اس کے اثرات تسلسل کے ساتھ جاری رہیں۔ انہوں نے بتایا کہ، ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں ایک روپے کی تبدیلی سے 8 سے 10 ارب روپے کا فرق پڑتا ہے، اور شرح سود میں صرف ایک فیصد اضافے سے 6 ارب روپے ٹیرف پر اثرانداز ہوتا ہے۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ، اگر اصلاحات واقعی موثر ثابت ہو رہی ہیں تو گزشتہ سال جولائی میں بیس ٹیرف میں 7 روپے 91 پیسے فی یونٹ کی ممکنہ کمی کیوں نہیں کی گئی، تو وزیر نے جواب دیا کہ، وہ نیپرا کے زیر التواء فیصلوں پر رائے نہیں دے سکتے، لیکن ممکن ہے کہ ،نئے مالی سال کے آغاز میں اس پر نظرثانی کی جائے۔
اویس لغاری نے بتایا کہ، حکومت نے 30 نجی بجلی گھروں (IPPs) اور 6 سرکاری پاور پلانٹس کے ساتھ بات چیت کے ذریعے 3,696 ارب روپے کی بچت ممکن بنائی ہے۔ ان میں سے 2,661 ارب روپے کی بچت صرف 6 سرکاری پاور پلانٹس کی شرائطِ معاہدہ میں تبدیلی سے حاصل ہوئی، جو کہ تمام جی پی پیز کا 33 فیصد بنتی ہے۔
باقی 1,034 ارب روپے کی بچت 30 نجی بجلی گھروں کے ساتھ دوبارہ معاہدہ طے کرنے سے ہوئی، جن کے معاہدے 3 سے 25 سال کے درمیان باقی تھے۔ ان میں سے 5 آئی پی پیز ایسے تھے جن کے معاہدے ختم کر دیے گئے، اور ان سے 297 ارب روپے کی بچت ہوئی۔ 1994 اور 2002 کی پاور پالیسیوں کے تحت قائم 16 اور 9 آئی پی پیز سے بالترتیب 502 ارب اور 235 ارب روپے کی بچت ہوئی۔
وزیر توانائی نے بتایا کہ، حکومت نے ‘انڈیکیٹر جنریشن کیپیسٹی ایکسپنشن پلان(IGCEP)’ پر کام مکمل کر لیا ہے، جو آئندہ بجلی کی خریداری کو مسابقتی عمل کے تحت ممکن بنائے گا۔ اس منصوبے کے تحت اسٹریٹجک پاور پلانٹس کو پی ایس ڈی پی یا براہ راست حکومتی فنڈنگ سے مالی معاونت دی جائے گی، تاکہ ان کی اضافی لاگت صارفین پر نہ پڑے۔
انہوں نے مزید کہا کہ، اب ٹرانسمیشن لائن کی استعداد کے مطابق ہی بجلی کی خریداری کی اجازت دی جائے گی، اور CPPA مستقبل میں خود بجلی نہیں خریدے گی۔ اس کا مقصد بجلی کے شعبے میں سنگل خریدار ماڈل سے نکل کر مسابقتی مارکیٹ کی جانب بڑھنا ہے۔
اویس لغاری نے بتایا کہ، جنوب میں کوئلے سے پیدا ہونے والی سستی بجلی، ٹرانسمیشن میں رکاوٹوں کے باعث شمال میں نہیں پہنچائی جا سکتی، ورنہ قومی ٹیرف میں 2 روپے فی یونٹ کی مزید کمی ممکن ہو سکتی تھی۔ حکومت ان رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل اختیار کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ، مالی سال 2025 کے لیے گردشی قرضے کا تخمینہ 2,429 ارب روپے لگایا گیا تھا، تاہم جولائی سے دسمبر کے دوران اس میں 9 ارب روپے کی کمی واقع ہوئی، جس سے مجموعی طور پر 339 ارب روپے کی بہتری آئی۔ ابتدائی طور پر ڈسکوز کی نااہلی کا تخمینہ 303 ارب روپے تھا، لیکن عملی طور پر یہ صرف 158 ارب روپے رہی، جو کہ بہتری کی نشاندہی کرتا ہے۔
البتہ انہوں نے تشویش کا اظہار کیا کہ، حیدرآباد اور سکھر کی ڈسکوز اپنے ہدف سے 20 ارب روپے زائد خسارہ کر چکی ہیں، اس کی وجہ بورڈ آف ڈائریکٹرز کی تقرری میں تاخیر ہے۔
وزیر توانائی نے بتایا کہ، 1,200 ارب روپے کے گردشی قرض کی ری اسٹرکچرنگ کے لیے فی یونٹ 3 روپے 23 پیسے کا ڈیٹ سروسنگ سرچارج جاری رہے گا، جو 6 سال میں 2,400 ارب روپے کے گردشی قرضے کو ختم کرنے میں مدد دے گا۔ اس میں سے صرف 300 ارب روپے کا تاخیر سے ادائیگی کا سرچارج باقی رہ جائے گا، جس کی ادائیگی وزارت خزانہ کی مدد سے کی جائے گی۔
انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ، پہلے مرحلے میں اسلام آباد، فیصل آباد، اور گجرانوالہ کی ڈسکوز کو نجی شعبے کے حوالے کیا جائے گا۔ دوسرے مرحلے میں لاہور، ملتان، اور ہزارہ کی ڈسکوز آئیں گی، جبکہ حیدرآباد، سکھر، اور پشاور کی کمپنیاں طویل مدتی رعایتی معاہدوں پر دی جائیں گی۔ قبائلی اور کوئٹہ کی ڈسکوز کو سرکاری تحویل میں رکھا جائے گا، لیکن ان کا انتظامی کنٹرول نجی شعبے کو دیا جائے گا۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں