صدر شوکت مرزائیوف کا دورہ سلووینیا ، دوطرفہ تعلقات کے نئے دور کا آغاز

صدر شوکت مرزائیوف سرکاری دورے پر سلووینیا پہنچے، جہاں لیوبلیانا کے کانگریس اسکوائر میں ان کے اعزاز میں ایک باوقار استقبالیہ تقریب منعقد ہوئی۔ سلووینیا کی صدر ناتاشا پیرک موسار نے پرتپاک استقبال کیا۔ قومی ترانوں کی دھنیں بجائی گئیں، گارڈ آف آنر پیش کیا گیا، اور دونوں صدور نے وفود کے اراکین سے مصافحہ کیا۔

استقبالیہ کے بعد ازبک صدر نے اسٹار پارک میں واقع جنگوں کے تمام متاثرین کی یادگار پر پھول چڑھائے۔ یہ عمل نہ صرف شہداء کو خراج عقیدت پیش کرنے کا اظہار تھا بلکہ امن و انسانیت سے وابستگی کا اعادہ بھی تھا۔

صدارتی محل میں دونوں رہنماؤں کے درمیان وفود کی سطح پر مذاکرات ہوئے۔ صدر مرزائیوف نے سلووینیا کے گرم جوش استقبال پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 20 سالوں میں یہ پہلا اعلیٰ سطحی اجلاس ہے جو دوطرفہ تعلقات میں ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہوگا۔

مذاکرات میں سیاسی، اقتصادی، ثقافتی اور تعلیمی شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے پر اتفاق کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے اطمینان کا اظہار کیا کہ حالیہ برسوں میں دوطرفہ تجارت کا حجم تین گنا بڑھ چکا ہے، اور اسے ابتدائی مرحلے میں 500 ملین یورو تک لے جانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ ازبکستان کی جانب سے ٹیکسٹائل، پھل و سبزیاں، تانبا اور کھاد جیسے صنعتی و زرعی مصنوعات کی برآمد پر زور دیا جائے گا، جبکہ سلووینیا سے ادویاتی مصنوعات، جدید ٹیکنالوجی اور مشینری کی درآمد کو فروغ دیا جائے گا۔ سلووینیا کی کوپر بندرگاہ کو یورپی منڈی تک رسائی کے لیے لاجسٹک مرکز بنانے کے امکانات کا بھی جائزہ لیا گیا۔

دونوں ممالک نے صنعتی تعاون، زرعی و ادویاتی پیداوار، توانائی منصوبوں کی تعمیر و مرمت، اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبے میں شراکت داری پر اتفاق کیا۔ منظم مزدور نقل مکانی سے متعلق معاہدے پر بھی کام کیا جائے گا، جس کے تحت زبان، مہارت اور لیبر قوانین کی تربیت فراہم کی جائے گی۔

تعلیم کے میدان میں، دونوں ممالک کے درمیان ڈگریوں کے باہمی اعتراف اور یونیورسٹیوں کے درمیان مشترکہ پروگرامز کے آغاز پر اتفاق ہوا۔ تاشقند میں آئندہ برس نوجوانوں کا مشترکہ فورم بھی منعقد ہوگا۔ ثقافتی روابط کے فروغ کے لیے ازبک فلم ویک اور ثقافتی تقریبات کا انعقاد بھی زیر غور آیا۔

اس سلسلے میں دونوں ممالک نے جولائی میں لیوبلیانا میں بین الحکومتی کمیشن کا پہلا اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ ان تمام اقدامات کو عملی شکل دی جا سکے۔ صدر مرزائیوف نے آخر میں سلووینیا کی صدر کو ازبکستان کے سرکاری دورے کی دعوت بھی دی۔

یہ تاریخی دورہ دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز ہے، جو باہمی اعتماد، معاشی تعاون اور ثقافتی ہم آہنگی پر مبنی مستقبل کی بنیاد رکھتا ہے۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں