3200 غیر ملکی طلباء کی میزبانی کر رہے ہیں:ریکٹر سمرقند اسٹیٹ میڈیکل یونیورسٹی، ڈاکٹر جیسور رضائیو

ریکٹر سمرقند اسٹیٹ میڈیکل یونیورسٹی، ڈاکٹر جیسور رضائیو نے  تاشقند اردو کو  خصوصی انٹرویو دیا ، جس میں انہوں نے  یونیورسٹی کے تعلیمی نظام ، سہولیات اور غیر ملکی طلباء سے متعلق موضوعات پر تفصیل سے گفتگو کی ۔

ڈاکٹر جیسور رضائیو کا تاشقند اردو کی نمائندہ سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ، سمرقند سٹیٹ یونیورسٹی ہمارے ملک کی بہت پرانی یونیورسٹی ہے، جو 1930 میں قائم ہوئی۔ اس کے تقریبا 100 سال گزر چکے ہیں۔ یہاں سے بہترین  کے ڈاکٹر بن کر نکلتے ہیں۔ہمارے یہاں میڈیکل کے بہت سے شعبے ہیں جن میں  فیکلٹی آف جنرل میڈیسن، پوڈیاٹرک، میڈیکل بیالوجی، ڈنٹسٹری، فارمیسی شامل ہیں، بلکہ ہمارے پاس میڈیکل تعلیم کے  تقریبا تمام شعبے ہیں۔ہمارے پاس میڈیکل تعلیم کے 9 مختلف ڈیپارٹمنٹس ہیں۔ فی الحال، ہمارے پاس تقریبا 14 ہزار طلباء پڑھ رہے ہیں۔ اس کے علاوہ، تین ہزار غیر ملکی طلباء بھی یہاں پڑھ رہے ہیں جن کیلئے ہم نے  انٹرنیشنل ایجوکیشن کے نام سے  ایک ڈیپارٹمنٹ بنایا ہوا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ، ہم نے 4 سال پہلے غیر ملکی طلباء کو داخلے دینا شروع کئے۔ ان چار سالوں میں ہم نے بھرپور کوششیں کیں کہ، غیر ملکی طلباء کو تعلیم،قیام  اور آرام کیلئے بہتر ماحول مہیا کریں ۔ ہم کوشش کرتے ہیں کہ، غیر ملکی طلباء کو یہاں پر سکون ماحول فراہم کریں۔گزشتہ چار سالوں کے دوران، ہم غیر ملکی طلباء کی تعلیم کے بہت سے تجربات سے گزر چکے ہیں، مثلا چار سال قبل ہمارے پاس انگریزی کی کتابیں نہیں تھیں، لیکن پچھلے  چار سالوں میں ہم نے انگریزی کی ڈھیر ساری کتابیں خریدی ہیں۔ ہم نے غیر ملکی طلباء کیلئے ایک خصوصی آن لائن پلیٹ فارم بنایا ہوا ہے، جس کے ذریعے پاکستان اور دیگر ممالک سے کئی اساتذہ ان کو پڑھا رہے ہیں۔ ہمارے پاس 3 ہزار غیر ملکی طلباء ہیں، یہ بہت بڑی ٹیم ہے۔ ہم مستقبل میں نئے آنے والے طلباء کیلئے آسانیاں پیدا کریں گے۔

غیر ملکی ٹیچنگ سٹاف پر بات کرتے ہوئے ڈاکٹر جیسور کا کہنا تھا کہ، ہم غیر ملکی اساتذہ کو اس لئے بلاتے ہیں، کیونکہ جب غیر ملکی طلباء یہاں آتے ہیں تو ان کو تھوڑی سی مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔اس لئے ہم ان کیلئے دس ممالک سے اساتذہ بلاتے ہیں ،تاکہ وہ ان کو آسان انگریزی میں پڑھا سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ،  ہم نے غیر ملکی طلباء کیلئے انگریزی زبان میں ایک آن لائن پلیٹ فارم بنایا ہوا ہے۔ہم نے آرسل کمپنی بنائی ہے، اور غیر ملکی طلباء کیلئے خصوصی ہاسٹلز  بھی قائم کئے  ہیں۔ فی الحال ہمارے یہاں پچاس سے زیادہ غیر ملکی اساتذہ ہیں جن میں روس، پاکستان،  افغانستان، جنوبی کوریا کے اساتذہ شامل ہیں جو خصوصی طور پر انگریزی میں پڑھاتے ہیں۔ہم جانتے ہیں کہ، ہماری یونیورسٹی کے تعلیمی نظام میں چند کمیاں ہیں لیکن ہم مرحلہ وار مشکل چیزوں کو آسان بنا رہے ہیں۔ہم نے   ٹیوٹرز بھی  رکھے ہوئے  ہیں جو غیر ملکی طلباء سے صرف انگریزی میں بات کرتے ہیں تاکہ وہ آسانی سے چیزوں کو  سمجھ سکیں۔

اپنے پروفیشنل  کیرئیر پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ، شروعات میں، چار سال قبل، ہمیں بہت مشکلات پیش آئیں، مثلا ٹیچرز فیکلٹی، نصاب اور پروگرامز میں مشکلات پیش آئیں۔ ایم بی بی ایس پروگرام میں ہمیں بہت مشکلات پیش آئیں لیکن مرحلہ وار محنت کے بعد آج سب کچھ بالکل ٹھیک ہے۔ ہم نے بہت کٹھن محنت کی ،  اساتذہ اور طلباء  کیلئے آسانیاں پیدا کیں۔

طلباء کو پیغام دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ، ہم چاہتے ہیں کہ، طلباء بہت محنت سے پڑھیں، اور مستقبل میں قابل ڈاکٹر بنیں۔ یہ ہمارے لئے ، میرے لئے بلکہ پوری یونیورسٹی کیلئے بہت اہم ہے۔

غیر ملکی طلباء کو داخلے دینے سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ، یہاں ازبک کلچر کی ڈھیر ساری روایات اور رواج ہیں، تاریخی مقامات ہیں۔ اس لئے ہم چاہتے ہیں کہ، غیر ملکی طلباء ہمارا کلچر جانیں، ہماری تاریخ جانیں۔ ہم مستقبل میں غیر ملکی طلباء کی مدد کریں گے کہ، وہ یہاں آئیں اور تعلیم حاصل کریں۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں