پنجاب کے معروف گلوکار اور اداکار راجویر جوانڈا کے اچانک انتقال نے بھارتی پنجاب اور دنیا بھر میں ان کے مداحوں کو افسردہ کر دیا ہے۔
35 سالہ جوانڈا کی موت بدھ کے روز اس وقت ہوئی جب وہ ہماچل پردیش کے ضلع سولن میں 11 دن قبل پیش آنے والے حادثے کے بعد اسپتال میں زیر علاج تھے۔ ان کی موٹر سائیکل مویشیوں سے ٹکرا گئی تھی جس کے باعث وہ شدید زخمی ہو گئے تھے۔
راجویر جوانڈا اپنی منفرد آواز، محبت بھرے گیت اور پنجابی ثقافت سے جڑی دھنوں کی وجہ سے بے حد مقبول تھے۔ ان کے یوٹیوب چینل کے نو لاکھ سے زائد سبسکرائبرز ہیں اور ان کے گانے لاکھوں افراد نے سن رکھے ہیں۔
انہوں نے چند پنجابی فلموں میں بھی اداکاری کی اور صاف ستھری شہرت کی وجہ سے ایک الگ مقام بنایا۔ مداحوں کے مطابق وہ اپنے گانوں میں منشیات یا تشدد جیسے موضوعات سے مکمل طور پر گریز کرتے تھے۔
جوانڈا بائیک رائیڈنگ کے شوقین بھی تھے اور اکثر شمالی بھارت کے پہاڑی علاقوں میں سفر کرتے۔ وہ فطرت کے قریب وقت گزارنا پسند کرتے اور ہوٹلوں کے بجائے خیموں میں رات گزارنا ترجیح دیتے تھے۔
حادثے کے بعد مداحوں نے بھارتی حکومت سے سڑکوں کی خستہ حالت پر برہمی کا اظہار کیا اور بہتر روڈ سیفٹی کے اقدامات کا مطالبہ کیا۔راجویر جوانڈا کی زندگی کی کہانی بھی متاثر کن ہے۔
وہ ایک عام گاؤں میں پیدا ہوئے، ان کے والد پولیس میں ملازم تھے۔ بچپن سے موسیقی کا شوق رکھنے والے جوانڈا نے نو سال پنجاب پولیس میں خدمات انجام دی اور ساتھ ساتھ گلوکاری بھی جاری رکھی۔ بعد میں انہوں نے پولیس چھوڑ کر گلوکاری کو پیشہ بنایا اور جلد ہی شہرت حاصل کی۔
سال 2020 میں کسانوں کے احتجاج کے دوران جوانڈا نے کھل کر کسانوں کا ساتھ دیا۔ وہ احتجاجی کیمپوں میں شریک ہوئے، لوک گیت گا کر کسانوں کا حوصلہ بڑھایا اور ان کے حق میں آواز بلند کی۔
ان کے انتقال پر پورے پنجاب میں سوگ کی فضا ہے۔ معروف رہنماؤں اور فنکاروں نے گہرے دکھ کا اظہار کیا۔ منییش سسودیا نے کہا کہ راجویر جوانڈا کی "روح کو چھو لینے والی آواز ہمیشہ پنجاب کے دلوں میں زندہ رہے گی