سترہ فروری کولاہور سے براستہ موٹروے شیخوپورہ جاتے اورکھیتوں میں لہلہاتی فصلیں دیکھتے ہوئے مجھے کالم کیلئے ایک فقرہ سجھائی دیا جومیں نے فوری نوٹ کرلیا۔ہماری بیش قیمت”نسلیں“ میٹھے زہر کے قہرسے بچانے کیلئے منشیات کی ”فصلیں“ تلف جبکہ تعلیمی اداروں کی ”فصیلیں“مزیدبلند کرناہوں گی جوکوئی منشیات فروش پھلانگ نہ سکتا ہو، تاہم یہ اہم کام عوام کی بھرپور طاقت اورشراکت کے بغیر نہیں ہوسکتا۔اینٹی نارکوٹکس فورس کے ریجنل کمانڈر بریگیڈئیر سکندرحیات چوہدری کی پرخلوص دعوت پرشیخوپورہ جاتے ہوئے جہاں مجھے اپنے ”بچپن“سے ”پچپن“تک کے کئی سفر یادآرہے تھے وہاں امریکہ میں مقیم شہراقبال ؒ کے حافظ منیرکی ایک ترش اورتلخی سے بھرپوربات بھی یادآگئی،2012ء کے دوران لاہورائیرپورٹ سے باہرآتے ساتھ موصوف نے مجھے ایک چٹ تھماتے ہوئے کہاتھا،”خان جی!یہ چٹ اپنے پاس رکھیں،اگرمجھے میری شراب نہ ملی توآج سے ہمارا تعلق ختم “،میں نے وہ چٹ فوری واپس کرتے ہوئے جواب دیاتھا،”ہمارا تعلق ابھی سے ختم“۔اس واقعہ کاپس منظر کچھ یوں تھا، حافظ منیر نے امریکہ سے لاہورکیلئے روانہ ہونے سے قبل مجھے کہا “میرے سامان میں شرا ب کی بارہ بوتلیں ہیں وہ آپ کلیئرکروادیں،میں نے جواب دیاتھا آپ حافظ قرآن ہیں،یہ شوق آپ کے شایان شان نہیں۔ان کے اصرارپرمیں نے دوبارہ کہا میرے چاروں بچے بھی حافظ قرآن ہیں،میں شراب کی ترسیل میں سہولت کار نہیں بن سکتا “۔راقم نے دوٹوک انکارکردیا تھا لیکن اس کے باوجود حافظ منیر اپنے سامان میں شراب کی بوتلیں لے آئے جوائیرپورٹ اہلکاروں نے نکال لی تھیں اورانہیں کہا تھاآپ اس چٹ پردرج رقم اداکر کے اپنی شراب واپس لے سکتے ہیں۔حافظ منیر نے اپنی طرف سے دوستی بھرے اندازمیں یہ مذموم کام مجھے سونپنا چاہا لیکن میں نے اپنے ضمیر پرشراب کابوجھ اٹھانے کی بجائے تعلق ختم کرنا غنیمت جانا۔الحمدللہ! میں زمانہ طالبعلمی،طلبہ سیاست اورایم اے اوکالج لاہور کے دلاورہاسٹل میں قیام کے دوران بھی ہرقسم کی منشیات کے استعمال سے کوسوں دوربلکہ دوسرے طلبہ کوبھی سگریٹ نوشی سے روکتا رہا ہوں۔راقم کے عزیزواقارب اچھی طرح جانتے ہیں مجھے تمباکونوشی کے دوران پیداہونیوالی بدبواور منشیات کے نام سے بھی شدیدنفرت ہے۔میں تو پبلک ٹرانسپورٹ میں سگریٹ نوشی کرنیوالے مسافروں کے ساتھ الجھ پڑتا ہوں اورانہیں تمباکونہیں پینے دیتا۔ہمارے شفیق ومہربان والد حاجی امان اللہ خان مرحوم اورہم پانچوں بھائی تمباکونوشی نہیں کرتے تھے اورالحمدللہ!ہمارے بچوں میں سے بھی کوئی نہیں کرتا۔
ہم مقررہ وقت پرشیخوپورہ بائی پاس سے متصل اس عمارت میں داخل ہوئے جہاں روس کے بنے مخصوص پلانٹ میں منشیات برن ہونا تھیں۔مجھے اینٹی نارکوٹکس فورس کے مستعد آفیسرزاوراہلکاروں کاوالہانہ انداز سے شرکاء کوخوش آمدیدکہنا اچھا لگا،ڈسپلن فورس کانظم وانتظام اورحسن تدبیر قابل دید تھا۔ اینٹی نارکوٹکس فورس کے ڈی جی میجر جنرل عبدالمعید (ہلال امتیاز ملٹری)اپنی سرکاری مصروفیات کے سبب تقریب میں شریک نہ ہوسکے تاہم منتظم اعلیٰ نے شرکاء کو اپنے نیک نام سربراہ کی طرف سے نیک خواہشات کاپیغام پہنچایا۔اینٹی نارکوٹکس فورس کے زیرک اورانتھک ڈائریکٹر جنرل میجرجنرل عبدالمعید (ہلال امتیاز ملٹری) اور ریجنل ڈائریکٹوریٹ کے کمانڈر بریگیڈئیر سکندرحیات چوہدری کی قیادت میں مستعد اہلکاروں کا منشیات کیخلاف مزاحمتی جہادجاری ہے۔پنجاب کے سابقہ صوبائی وزیرتعلیم اوریونیورسٹی آف ساؤتھ ایشیاء کے باوقار وائس چانسلر میاں عمران مسعود،آج کی پروقارتقریب کے روح رواں اور میزبان اینٹی نارکوٹکس فورس ریجنل ڈائریکٹوریٹ کے کمانڈر بریگیڈئیر سکندرحیات چوہدری، ڈائریکٹر آئی ایس پی آرلاہوربریگیڈئیر محمدآصف، پنجاب کاؤنٹر نارکوٹکس فورس کے کمانڈر بریگیڈئیر مظہراقبال، شیخوپورہ ڈویژن کے کہنہ مشق اورباصلاحیت آرپی او اطہراسماعیل،ڈی پی اوشیخوپورہ بلال ظفر شیخ،سابقہ سیشن جج نویدسلیمی،باریش اوردرویش ایس پی عمربلوچ،ڈی ایس پی طارق کیانی،ممتازقانون دان سلمان ملک اور تعلیمی اداروں کے سربراہان سمیت بڑی تعداد میں وردی پوش اورسرفروش آفیسرز،اہلکار،میڈیا پرسنز،طلبہ وطالبات اورشہری اس پروقار تقریب میں شریک تھے۔تقریب کاباضابطہ آغاز تلاوت قرآن مجید اورقومی ترانہ کے ساتھ کیاگیا۔ پراعتماداورپرجوش انداز میں شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے اینٹی نارکوٹکس فورس ریجنل ڈائریکٹوریٹ کے کمانڈر بریگیڈئیر سکندرحیات چوہدری نے تجدیدعہداور اس عزم کابھرپوراعادہ کرتے ہوئے کہا، وہ اوران کے ٹیم ممبرز منشیات فروشوں کیخلاف مزید منظم اورموثر انداز میں کاروائیاں جاری رکھیں گے۔ وہ ایک دردمندباپ کی طرح قوم کے بیٹوں اوربیٹیوں کو منشیات سے اظہار بیزاری اوراجتماعی بیداری کیلئے نصیحت اوروصیت کررہے تھے۔ کمانڈر ریجنل ڈائریکٹوریٹ اینٹی نارکوٹکس فورس نے منشیات فروش مافیاز کیخلاف مختلف خطرناک آپریشنز کے دوران جام شہادت نوش کرنیوالے اپنے سرفروش شہداء کو قومی ہیروزقراردیااوران کے درجات کی بلندی کیلئے بارگاہ الٰہی میں اپنا دست دعا درازکیا۔ پنجاب پولیس کے پروفیشنل آرپی اوشیخوپورہ اطہراسماعیل نے بھی دوران خطاب منشیات کے استعمال جیسی بدترین عادت کے مضمرات پرروشنی ڈالی اورنوجوانوں کواپنامستقبل روشن بنانے کیلئے صحتمندسرگرمیوں پرفوکس کرنے کامفیدمشورہ دیا۔انہوں نے منشیات کیخلاف وزیراعلیٰ پنجاب کے دوٹوک احکامات بارے بھی شرکاء کوآگاہ کیا۔مقررین کی مختصروپراثرتقاریر جبکہ اپنی پیشہ ورانہ خدمات تندہی سے انجام دینے والے فرض شناس آفیسرز اوراہلکاروں میں خصوصی تہنیتی اسناد کی تقسیم کے بعد پنجاب کے سابقہ نیک نام صوبائی وزیرتعلیم میاں عمران مسعود، اینٹی نارکوٹکس فورس ریجنل ڈائریکٹوریٹ کے کمانڈر بریگیڈئیر سکندرحیات چوہدری، ڈائریکٹر آئی ایس پی آرلاہوربریگیڈئیر محمدآصف، پنجاب کاؤنٹر نارکوٹکس فورس کے کمانڈر بریگیڈئیر مظہراقبال،آرپی اوشیخوپورہ اطہراسماعیل اورڈی پی اوشیخوپورہ بلال ظفرشیخ نے ایک ساتھ تین مختلف بٹن دباتے ہوئے بڑی مقدارمیں منشیات برن کرنے کاآغاز کیا۔اینٹی نارکوٹکس فورس کی طرف سے مختلف آپریشنز کے دوران سال بھر”تحویل“ میں لی گئی منشیات کو دھویں میں ”تحلیل“ کردیاگیا۔اس سال ”ٹُن“کرنیوالی مجموعی طورپر 25.199”ٹن“ منشیات کوتلف کیا گیا،ا ن میں 445.676کلوگرام ہیروئن،11386.714کلوگرام چرس،900.755کلوگرام افیون،101.839کلوگرام آئس،0.775کلوگرام کوکین،0.775کلوگرام Ecstasy Tablet، 12291.81کلوگرام بھنگ سمیت مختلف اقسام کی منشیات شامل تھیں۔منشیات کے ہزاروں تھیلے ہمارے دیکھتے دیکھتے جدید پلانٹ سے ہوتے ہوئے راکھ کاڈھیر بنے پڑے تھے جبکہ اس شاندار کامیابی وکامرانی اورنیک نامی پر اینٹی نارکوٹکس فورس کے پرجوش ریجنل کمانڈر بریگیڈئیر سکندرحیات چوہدری کی آنکھیں خوداعتمادی اورخودداری کے نورسے چمک رہی تھیں۔بلڈوزر نے مختصر وقت میں شراب کی ہزاروں بوتلیں چکناچورکردیں،”شراب“ کا”شباب“بھی جاتا رہا اور ان کی بدبو نے وہاں مزید ٹھہرنا دشوار کردیا۔ برن ہونے کے بعد منشیات کی اس ”راکھ“میں اینٹی نارکوٹکس فورس کی”ساکھ“ کارازپنہاں تھا۔نذرآتش کی جانیوالی کئی”ٹن“ منشیات اوربڑی مقدارمیں قیمتی شراب سے ہزاروں لوگ ”ٹُن“ ہونا تھے لیکن کمانڈر بریگیڈئیر سکندرحیات نے ان کے ارمانوں کو”کرچی کرچی“کردیا۔ بریگیڈئیر سکندرحیات کوان کی پیشہ ورانہ محکمانہ مہارت اورگرانقدرخدمات پراس سال 23مارچ کو یوم پاکستان پرستارہ امتیاز سے نوازاجائے گا،وہ بجاطورپراس اعزاز کے مستحق ہیں۔
راقم کی تجویز ہے قومی شناختی کارڈ،ڈرائیونگ لائسنس،نکاح، کالجزاوریونیورسٹیز میں ایڈمشن جبکہ امتحانات میں بیٹھنے کیلئے طلبہ وطالبات سمیت شہریوں جبکہ قومی اوربلدیاتی انتخابات میں امیدواروں کامنشیات ٹیسٹ ناگزیرقراردیاجائے۔راقم کی تجاویزبظاہر سخت محسوس ہوں گی لیکن منشیات کے سیلاب کوصرف سخت پہروں اور سزاؤں کے بندسے روکاجاسکتا ہے۔ اگر”شراب“ سے”آب“ نکال دیاجائے توپیچھے ”شر“ بچے گا، سوشراب میں شر کے سوا کچھ نہیں ہے لہٰذاء خود کواس سے دوررکھیں۔ہرقسم کی ”منشیات“ کا ”ممنوعات“ میں شمار ہوتا ہے۔شراب سمیت مختلف اقسام کی مضر صحت منشیات سے بیزاری کیلئے نوجوانوں کی انفرادی واجتماعی بیداری کیلئے ہرسطح پرآگہی مہم ناگزیر ہے۔ادویات کی آڑ میں منشیات کی فروخت پربھی پابندی عائد کی جائے۔منشیات کی متعدداقسام تک عام رسائی ایک بڑاسوالیہ نشان ہے۔ عام لوگ جانے انجانے میں اس روگ میں گرفتار ہورہے ہیں،انہیں اندوہناک انجام اوردردناک موت سے بچانے کیلئے ماہرین کی مہارت اورمشاورت سے منشیات کی شناخت سہل بنا ئی جائے۔منشیات سے نجات کیلئے ڈی جی میجر جنرل عبدالمعید اور کمانڈر ریجنل ڈائریکٹوریٹ بریگیڈئیر سکندرحیات چوہدری کی قیادت میں اینٹی نارکوٹکس فورس کے تسلی بخش اقدامات اوراس ادارہ کی دوررس اصلاحات میں مزید جدت اورشدت کی اشد ضرورت ہے۔ ریجنل ڈائریکٹوریٹ اینٹی نارکوٹکس فورس کے فرض شناس اہلکاروں کی کمٹمنٹ اورمنشیات مافیا کیخلاف بھرپور مزاحمت قابل قدر ہے۔مسیحی افراد کیلئے شراب کے لائسنس جاری اورانہیں سرعام شراب فروخت کرنے کاکوئی جواز نہیں بنتا کیونکہ اسلا م کی طرح عیسائی مذہب میں بھی شراب نوشی جائز نہیں۔ نصاب تعلیم،اساتذہ اورعلماء کی مدد سے طلبہ وطالبات کو مہلک منشیات کے مضمرات سے آگاہ کیاجائے۔بدقسمتی سے منشیات فروش معاشرے کے مخصوص بااثرشخصیات کی سرپرستی میں منظم انداز سے معاشرے میں بگاڑ پیداکررہے ہیں۔ منشیات کی بھاری مقدار کے ساتھ گرفتار سماج دشمن عناصر کی چندپیشیوں کے بعد ضمانت پررہائی ایک بڑاسوالیہ نشان ہے،اس ضمن میں سخت قانون سازی کی ضرورت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔منشیات فروش انسانیت کے بے رحم دشمن ہیں،ان کیلئے سزائے موت کاقانون بنایاجائے۔ قوم کے بیٹوں اوربیٹیوں کی زندگی سے کھیلنے والے منشیات فروش سزائے موت کے مستحق ہیں۔ ماں باپ اپنے بچوں کو معاشرے کاصحتمند اورسودمند فرد بنانے کیلئے ان کی سرگرمیوں سے چشم پوشی نہ کریں اورانہیں ضرورت سے زیادہ ڈھیل نہ دیں۔ منشیات کے عادی افراد کی ابتر حالت والی تصاویر شاہراہوں اوردرسگاہوں میں آویزاں کرنے سے نوجوانوں کویقینا عبرت ہوگی اوروہ منشیات کازہراستعمال نہیں کرینگے۔