ایپل کی پرائیویسی سروس پر سوالات، قانونی درخواست پر صارفین کی معلومات فراہم کرنے کا انکشاف

حالیہ عدالتی دستاویزات سے معلوم ہوا ہے کہ معروف ٹیکنالوجی کمپنی ایپل نے بعض صارفین کی معلومات امریکی تحقیقاتی اداروں کو فراہم کی ہیں۔

رپورٹس کے مطابق، ایک مقدمے کے دوران امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی نے ایک دھمکی آمیز ای میل کی تفتیش میں ایپل سے مدد مانگی۔ اس کے جواب میں کمپنی نے متعلقہ ای میل کے اصل مالک کی شناخت، اس کا نام اور دیگر تفصیلات فراہم کر دیں۔

عدالتی ریکارڈ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ایک صارف نے اس سروس کے ذریعے ایک سو چونتیس ای میل ایڈریس بنائے تھے، جن کی معلومات بھی حکام کے حوالے کی گئیں۔

اسی طرح ایک اور مقدمے میں، ایک وفاقی تحقیقاتی ادارے نے شناختی فراڈ کی تحقیقات کے دوران ایپل سے ایک صارف کا ریکارڈ حاصل کیا۔ حکام کے مطابق، ملزم مختلف اکاؤنٹس کے ذریعے متعدد ای میل ایڈریس استعمال کر رہا تھا۔

ایپل کی یہ سروس صارفین کو اپنی اصل ای میل چھپانے کی سہولت دیتی ہے تاکہ وہ مختلف ویب سائٹس پر رجسٹریشن کے دوران اپنی شناخت محفوظ رکھ سکیں۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ سہولت مکمل رازداری فراہم نہیں کرتی۔

ماہرین کے مطابق، اگرچہ پیغامات کا متن خفیہ رہ سکتا ہے، لیکن صارف کی بنیادی معلومات جیسے نام، رابطہ اور اکاؤنٹ کی تفصیلات کمپنی کے پاس موجود ہوتی ہیں، جو قانونی حکم ملنے پر فراہم کی جا سکتی ہیں۔

ڈیجیٹل پرائیوسی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ ایسی سہولیات مکمل تحفظ کی ضمانت نہیں ہوتیں، بلکہ وہ متعلقہ ممالک کے قوانین کے تابع ہوتی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ صارفین کو یہ سمجھنا چاہیے کہ خفیہ ای میل کا استعمال صرف عام حالات میں شناخت چھپانے میں مدد دیتا ہے، لیکن قانونی تحقیقات کی صورت میں یہ معلومات ظاہر کی جا سکتی ہیں۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں