قطر نے ایران کی جانب سے راس لفان صنعتی زون پر کیے گئے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے خطرناک اشتعال انگیزی اور ملکی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران کے اس حملے کے نتیجے میں راس لفان صنعتی زون میں آگ بھڑک اٹھی جس سے تنصیبات کو کافی نقصان پہنچا۔ بیان میں اس واقعے کو قومی سلامتی اور خطے کے استحکام کے لیے براہِ راست خطرہ قرار دیا گیا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ قطر شروع سے ہی اس جنگ سے خود کو دور رکھنے اور کشیدگی سے بچنے کی پالیسی پر قائم ہے، مگر اس کے باوجود ایران مسلسل قطر اور پڑوسی ممالک کو نشانہ بنا رہا ہے، جو ایک غیر ذمہ دارانہ طرزِ عمل ہے اور علاقائی امن کو نقصان پہنچا رہا ہے۔
وزارت نے اس بات پر زور دیا کہ قطر بارہا یہ مطالبہ کرتا رہا ہے کہ شہری اور توانائی سے متعلق تنصیبات کو نشانہ بنانے سے گریز کیا جائے، چاہے وہ ایران کے اندر ہوں یا کسی اور ملک میں، تاکہ خطے کے عوام کے وسائل محفوظ رہیں اور عالمی امن برقرار رکھا جا سکے۔
تاہم، بیان کے مطابق ایران کی جانب سے کشیدگی میں اضافہ جاری ہے جس سے صورتحال مزید سنگین ہوتی جا رہی ہے اور ایسے ممالک بھی اس تنازعے کی لپیٹ میں آ رہے ہیں جو اس کا حصہ نہیں ہیں۔
قطر نے کہا کہ یہ حملہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 2817 کی خلاف ورزی ہے اور عالمی ادارے سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے ہوئے ان سنگین خلاف ورزیوں کو روکنے اور ذمہ دار عناصر کے خلاف اقدامات کرے۔
بیان میں کہا گیا کہ قطر اپنے دفاع کے حق کو محفوظ رکھتا ہے اور اقوامِ متحدہ کے منشور کے تحت حاصل اس حق کے مطابق اپنی خودمختاری، سلامتی اور اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرنے سے دریغ نہیں کرے گا۔