قطر کا ایران کے سفارتی عملے کو ملک چھوڑنے کا حکم، سعودی عرب کا ممکنہ کارروائی کا عندیہ

قطر نے ایران کے حالیہ راس لفان صنعتی زون پر میزائل حملے کے بعد سخت ردِعمل دیتے ہوئے ایرانی سفارتی عملے کے بعض ارکان کو ملک بدر کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جبکہ سعودی عرب نے بھی ممکنہ کارروائی کا عندیہ دیا ہے۔

قطری وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں ایران کے حملے کی شدید مذمت کی گئی اور کہا گیا کہ ایران خطے کو تباہی کی طرف دھکیل رہا ہے۔

حکام کے مطابق قطر نے ایرانی سفارت خانے کے چند اہلکاروں، جن میں فوجی اور سیکیورٹی اتاشی شامل ہیں، کو 24 گھنٹوں کے اندر ملک چھوڑنے کا حکم دے دیا ہے۔

دوسری جانب ریاض میں بدھ کے روز وزرائے خارجہ کی سطح پر ہنگامی مشاورت اجلاس منعقد ہوا جو جمعرات کی صبح تک جاری رہا۔ اجلاس کے بعد سعودی وزیرِ خارجہ نے پریس کانفرنس میں ایران کے خلاف سخت مؤقف اختیار کیا۔

انہوں نے کہا کہ عرب اور اسلامی ممالک اس تنازع کو حل کرنے کے لیے تمام سفارتی ذرائع استعمال کریں گے، تاہم اگر ضرورت پڑی تو دیگر ذرائع سے بھی گریز نہیں کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے کے ممالک کا صبر لامحدود نہیں اور ایران کو چاہیے کہ وہ عرب قیادت کے مؤقف کو سنجیدگی سے لے۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں