وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے پاکستان تحریک انصاف کو 27 ستمبر کے مجوزہ لانگ مارچ اور اسلام آباد کی جانب احتجاجی پیش قدمی سے باز رہنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت اس بار کسی قسم کی گنجائش نہیں چھوڑے گی اور اسلام آباد کو کئی روز تک بند کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ حکومت نے پی ٹی آئی کو واضح پیغام دے دیا ہے کہ ایسے احتجاج سے اسے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ ان کے مطابق ابھی بھی وقت ہے کہ پارٹی اپنے فیصلے پر نظرثانی کرے اور اپنے کارکنوں کو ایسی صورتحال میں نہ لے جائے جہاں نقصان کا خدشہ ہو۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی کی سینئر قیادت کی اکثریت بھی لانگ مارچ کے حق میں نہیں ہے۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ اگر پی ٹی آئی نے احتجاج آگے بڑھایا تو حکومت اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد یقینی بنائے گی۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے 14 ستمبر کے فیصلے میں قرار دیا تھا کہ کسی سیاسی جماعت یا اس کی قیادت کو اسلام آباد کی عوامی سڑکوں، شاہراہوں، انٹرچینجز، ٹول پلازوں یا عمارتوں پر قبضہ کرکے آمدورفت روکنے کا قانونی حق حاصل نہیں۔
محسن نقوی سے پوچھا گیا کہ حکومت پی ٹی آئی کے مسلسل احتجاجی اعلانات کا طویل المدتی حل کیسے نکالے گی تو انہوں نے کہا کہ اس بار حکومت معاملہ ادھورا نہیں چھوڑے گی اور ایک مستقل حل تلاش کیا جائے گا۔ پی ٹی آئی پر پابندی یا خیبرپختونخوا میں گورنر راج سے متعلق سوالات پر انہوں نے کہا کہ حکومت کے پاس جو قانونی راستے موجود ہیں، وزیراعظم وزارت قانون سے مشاورت کے بعد ان پر غور کر سکتے ہیں۔
پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کی صحت اور انہیں نجی طبی مرکز منتقل کرنے کے مطالبے سے متعلق سوال پر وزیر داخلہ نے کہا کہ ان کا طبی معائنہ کیا گیا ہے اور قانون کے تحت جس علاج یا معائنے کی ضرورت ہوگی، وہ فراہم کیا جائے گا۔ ان کے مطابق حکومت طبی معاملات میں قانون کے مطابق اقدامات کرے گی۔
محسن نقوی نے ملک میں نئے صوبوں کے قیام کے معاملے پر بھی گفتگو کی اور کہا کہ اس حوالے سے تحریک تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔ ان کے مطابق مختلف تجارتی تنظیمیں، افراد اور دیگر حلقے اس معاملے میں دلچسپی لے رہے ہیں اور اگر عوامی حمایت موجود رہی تو نئے صوبوں کے قیام کا عمل آگے بڑھ سکتا ہے۔
پی ٹی آئی نے 27 ستمبر کو ملک گیر احتجاج اور اسلام آباد کی جانب مارچ کا اعلان کر رکھا ہے، جس کا مقصد پارٹی کے زیر حراست بانی عمران خان کی رہائی کے لیے دباؤ بڑھانا ہے۔ حکومت کی جانب سے حالیہ دنوں میں متعدد وزرا نے مجوزہ مارچ کے حوالے سے تنبیہ کی ہے، جبکہ وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ ہڑتالوں، دھرنوں، لانگ مارچ اور سڑکوں کی بندش سے ملکی معیشت کو یومیہ تقریباً 120 ارب روپے تک نقصان پہنچ سکتا ہے۔