‘پروٹیز کی جرسی پہننا ایک ایسا اعزاز ہے’، جنوبی افریقہ کے بلے باز راسی وین ڈر ڈوسن کا بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان

جنوبی افریقہ کی قومی ٹیم کے تجربہ کار بلے باز راسی وین ڈر ڈوسن نے بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا ہے۔

راسی وین ڈر ڈوسن نے دو اپریل کو سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں اس فیصلے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ وہ فخر اور شکرگزاری کے جذبات کے ساتھ اپنے بین الاقوامی کیریئر کا اختتام کر رہے ہیں۔ انہوں نے لکھا کہ جنوبی افریقہ کی نمائندگی کرنا ان کی زندگی کا سب سے بڑا اعزاز رہا اور اس سفر میں بے شمار قربانیاں شامل تھیں۔

انہوں نے کہا کہ پروٹیز کی جرسی پہننا ایک ایسا اعزاز ہے جو انسان کو ہر لحاظ سے آزماتا بھی ہے اور بہترین انداز میں نوازتا بھی ہے۔ ان کے مطابق اپنے ملک کے لیے کھیلنا ہر لمحہ قابلِ قدر رہا۔

راسی وین ڈر ڈوسن نے واضح کیا کہ اگرچہ وہ بین الاقوامی کرکٹ سے الگ ہو رہے ہیں، تاہم وہ ڈومیسٹک سطح پر اپنی ٹیم لائنز کی نمائندگی جاری رکھیں گے اور مستقبل میں کوچنگ کے شعبے میں بھی قدم رکھیں گے۔

انہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز 2018 میں ٹی ٹوئنٹی میچ سے کیا اور بعد ازاں تینوں فارمیٹس میں جنوبی افریقہ کی نمائندگی کی۔ اپنے کیریئر کے دوران انہوں نے 57 ٹی ٹوئنٹی، 71 ایک روزہ اور 18 ٹیسٹ میچز کھیلے۔

ان کا آخری بین الاقوامی میچ اگست 2025 میں آسٹریلیا کے خلاف ایک ٹی ٹوئنٹی مقابلہ تھا۔

ایک روزہ کرکٹ میں ان کا آغاز بھی متاثر کن رہا جب انہوں نے اپنے پہلے ہی میچ میں 93 رنز بنائے۔ وہ 2019 کے عالمی کپ میں بھی جنوبی افریقہ کی ٹیم کا حصہ رہے جہاں انہوں نے تین نصف سنچریاں اسکور کیں۔

انہوں نے 2021 میں پاکستان کے خلاف اپنی پہلی سنچری بنائی جبکہ 2023 کے عالمی کپ میں بھی دو سنچریاں اسکور کیں، جن میں نیوزی لینڈ کے خلاف 133 رنز کی نمایاں اننگز شامل ہے۔

راسی وین ڈر ڈوسن ایک روزہ کرکٹ میں پچاس سے زائد اوسط رکھنے والے جنوبی افریقی بلے بازوں میں شامل رہے اور اس حوالے سے ان سے آگے صرف اے بی ڈی ویلیئرز ہیں۔

وہ ٹیم کے اہم کھلاڑیوں میں شمار ہوتے تھے اور قیادت کی ذمہ داریاں بھی نبھاتے رہے، جن میں ویسٹ انڈیز کے خلاف ٹی ٹوئنٹی سیریز اور زمبابوے میں سہ ملکی سیریز شامل ہیں۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں