پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر طارق حسین بگٹی نے جمعرات کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیاہے۔ انہوں نے اس اقدام کی وجہ پاکستان اسپورٹس بورڈ کی بین الاقوامی ٹورنامنٹس کے لیے فنڈز کے انتظام میں مبینہ خراب کارکردگی اور بالخصوص انٹرنیشنل ہاکی فیڈریشن پرو لیگ کے لیے وسائل کے درست استعمال میں ناکامی قرار دی۔
لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بگٹی نے کہا کہ ان کا استعفیٰ وزیر اعظم کو پیش کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پرو لیگ کے لیے مختص رقم پاکستان سپورٹس بورڈ کو فراہم کی گئی تھی، مگر اس کے انتظام میں ناکامی کے باعث ارجنٹینا اور آسٹریلیا کے دوروں کے دوران لاجسٹک مسائل پیدا ہوئے۔ بگٹی نے کہا کہ فیڈریشن نے دوروں کے شیڈول پہلے سے فراہم کر دیے تھے اور مالی کنٹرول پی ایس بی کے پاس تھا۔
صدر پاکستان ہاکی فیڈریشن نے کہا کہ سات سال بعد پاکستان ہاکی کو پرو لیگ میں کھیلنے کا موقع ملا، مگر فنڈز کی کمی کے باعث مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے ذاتی طور پر ارجنٹینا میں ہوٹل کے بقایاجات ادا کرنے کے لیے 3,720 امریکی ڈالر خرچ کیے۔
بگٹی نے شفافیت کے لیے ایک آزاد تحقیقاتی کمیٹی قائم کرنے کا بھی مطالبہ کیا اور کہا کہ پی ایس بی کی جانب سے بنائی گئی کمیٹی نے خود کو “جج اور جوری” بنا لیا۔ انہوں نے اندرونی معاملات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے الزام لگایا کہ ٹیم کے کپتان نے کھلاڑیوں پر دباؤ ڈالا اور انہیں بااثر شخصیات کے پیغامات دکھائے، جس کے بعد فیڈریشن نے اماد شکیل بٹ پر دو سال کی پابندی عائد کی۔
فنڈنگ کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے ہاکی کے لیے 25 کروڑ روپے مختص کیے جو پی ایس بی کو جاری کیے گئے، مگر اس کے باوجود قومی ٹیم کو بیرون ملک بڑے لاجسٹک چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا۔ بگٹی نے مزید کہا کہ صرف استعفیٰ کافی نہیں، پاکستان کی ساکھ کو نقصان پہنچا ہے اور ذمہ داری کا تعین ہونا چاہیے۔
یہ استعفیٰ اس وقت سامنے آیا جب پی ایچ ایف اور پی ایس بی کے درمیان ہوبارٹ، آسٹریلیا میں ایف آئی ایچ پرو لیگ کے دوسرے مرحلے کے دوران قومی ٹیم کے انتظامات میں مبینہ بدانتظامی پر تنازعہ ہوا۔ پاکستانی ٹیم جرمنی اور آسٹریلیا کے خلاف شکست کے بعد لاہور واپس پہنچی اور بغیر جیت کے کیمپین ختم کیا۔
پی ایچ ایف نے موقف اختیار کیا کہ مالی اور لاجسٹک ذمہ داری پی ایس بی کی تھی، جبکہ پی ایس بی نے کہا کہ کافی فنڈز فراہم کیے گئے تھے اور فیڈریشن کے انتظامات پر سوال اٹھائے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے فوری تحقیق کا حکم دیاہے۔وفاقی وزیر رانا ثناء اللہ نے ایک کمیٹی بھی تشکیل دی تاکہ مسئلے کی جانچ کی جا سکے۔