ازبکستان کے صدر شوکت مرزائیوف نے تاشقند میں باضابطہ طور پر شروع ہونے والی پانچویں بین الاقوامی صنعتی نمائش “انوپروم: سینٹرل ایشیا” (INNOPROM. Central Asia) کے مقام کا دورہ کیا۔
یہ بین الاقوامی فورم سنٹرل ایشین ایکسپو ازبکستان نمائش مرکز میں منعقد ہو رہا ہے، جس کا رقبہ 18 ہزار مربع میٹر سے زائد ہے۔ اس اہم صنعتی نمائش میں روس، وسطی ایشیا کے ہمسایہ ممالک، چین، بھارت اور دیگر ممالک سے 10 ہزار سے زائد مندوبین شریک ہیں۔
نمائش میں مشینی انجینئرنگ، الیکٹریکل انجینئرنگ، دھات کاری، کیمیکل صنعت، ٹرانسپورٹ، تعمیرات، آئی ٹی اور دیگر شعبہ جات سے تعلق رکھنے والی نمایاں کمپنیوں نے اپنی جدید ٹیکنالوجیز، آلات اور تیار شدہ صنعتی مصنوعات پیش کی ہیں۔
صدر مرزائیوف نے نمائش کے مختلف اسٹالز کا معائنہ کرتے ہوئے تجارتی شراکت داری کے وسیع امکانات اور نئے کاروباری آئیڈیاز کے مواقع پر زور دیا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ فورم نئے بڑے منصوبوں کو فروغ دے گا، طویل مدتی شراکت داری اور علاقائی تعاون کو وسعت دے گا۔
اس موقع پر ازبک صدر نے روس کے پہلے نائب وزیرِ اعظم دینیس مانتوروف کی قیادت میں آنے والے روسی وفد سے ملاقات کی۔ روسی وفد نے صدر ولادیمیر پیوٹن کی طرف سے نیک خواہشات اور مبارکباد بھی پہنچائیں۔
ملاقات میں گزشتہ سال صدر پیوٹن کے دورہ ازبکستان کے بعد طے پانے والے معاہدوں پر عمل درآمد کا جائزہ لیا گیا۔ دونوں ممالک کے مابین تجارتی تبادلے میں مسلسل مثبت پیش رفت اور اہم مشترکہ منصوبے فعال انداز میں جاری ہیں، خاص طور پر علاقائی سطح پر باہمی تعاون کو فروغ دیا جا رہا ہے۔
صدر مرزائیوف نے تاتارستان کے سربراہ رستم منیخانوف سے بھی ملاقات کی، جس میں صنعتی تعاون میں وسعت اور ثقافتی و تعلیمی تبادلے کے فروغ پر بات چیت ہوئی۔
فریقین نے تیل و گیس، کیمیکل، ٹرانسپورٹ، سیاحت اور دیگر شعبہ جات میں مشترکہ منصوبوں کو صنعتی زونز کے ذریعے آگے بڑھانے پر اتفاق کیا۔
صدر ازبکستان نے روس کی جوہری توانائی کی کمپنی “روس ایٹم” (ROSATOM) کے ڈائریکٹر جنرل الیکسی لخاچیف سے بھی ملاقات کی۔ بات چیت میں جوہری توانائی کے پرامن استعمال میں جاری تعاون اور خاص طور پر زرعی و طبی شعبوں میں جوہری ٹیکنالوجی کے استعمال پر خصوصی توجہ دی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ، تاشقند میں MEPhI یونیورسٹی کی شاخ کے ذریعے ماہرین کی تربیت پر بھی بات ہوئی۔