ازبکستان کے صدر شوکت مرزائیوف نے کہا ہے کہ ملک میں غربت کی شرح اس سال کے اختتام تک 9 فیصد تک کم ہو جائے گی، جبکہ آئندہ برسوں میں اسے مزید گھٹا کر 6 فیصد تک لانے کا ہدف ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر کاروباری طبقے کے ساتھ تعاون جاری رہا تو یہ ہدف پورے اعتماد کے ساتھ حاصل کیا جا سکتا ہے۔
یہ بات انہوں نے 20 دسمبر کو ویڈیو کانفرنس کے ذریعے منعقدہ ایک اجلاس میں کہی، جس کا موضوع ‘2024 میں کاروبار کے فروغ اور 2025 کے منصوبے تھا۔ اجلاس میں سیاحت، برآمدات، انفراسٹرکچر، ٹیکس پالیسی اور غربت میں کمی کے اقدامات کا تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا۔
صدر مرزائیوف کے مطابق رواں سال نجی شعبے نے 6.5 کھرب ازبک سوم کی سرمایہ کاری سے 24 ہزار بستروں پر مشتمل ہوٹل تعمیر کیے۔ اگلے سال یہ تعداد 30 ہزار تک پہنچے گی اور سرمایہ کاری کا حجم 10 کھرب سوم ہوگا۔اس سال 17 بڑے تجارتی و سیاحتی مراکز کھولے گئے جبکہ اگلے سال مزید 25 مراکز قائم کرنے کا منصوبہ ہے۔
ازبکستان میں جلد ہی 23 عالمی شہرت یافتہ برانڈز کے تحت ہوٹل کھلیں گے جن میں سوئس اوٹل، شیراٹن، رِٹز کارلٹن، نووتیل، پل مین، میریٹ، آئی بس اور مرکور شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ تجارت کو سہارا دینے کے لیے ایک خصوصی کمپنی قائم کی گئی اور برآمدات کے لیے 35 کروڑ ڈالر مختص کیے گئے۔ہر ایک ڈالر کے بدلے 6 ڈالر مالیت کی برآمدات کی گئیں۔ اگلے سال برآمدات کی مالی معاونت کے لیے مزید 30 کروڑ ڈالر دیے جائیں گے۔
اس سال کاروباری طبقے نے 3 ہزار سرکاری جائیدادیں اور 4 ہزار ہیکٹر زمین خرید کر نئے منصوبے شروع کیے۔ 2025 میں مزید 4,500 جائیدادیں اور 6 ہزار ہیکٹر زمین فروخت کی جائے گی۔
سڑکوں کی مرمت و دیکھ بھال، جو پہلے ریاست کی اجارہ داری تھی، اب نجی شعبے کے سپرد کی جا رہی ہے۔ رواں سال 260 کلومیٹر سڑکوں کی مرمت نجی کمپنیوں نے کی جبکہ اگلے سال یہ ہدف 3 ہزار کلومیٹر ہوگا۔ ایشیائی ترقیاتی بینک کے تعاون سے 86 اضلاع میں 841 کلومیٹر نئی سڑکیں بھی تعمیر ہوں گی۔