ٹرمپ انتظامیہ کا کوئی خوف نہیں، جنگ کے خلاف بولتا رہوں گا’، پوپ لیو کا امریکی صدر کے بیان پر ردعمل

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور کیتھولک چرچ کے سربراہ پوپ لیو کے درمیان لفظی جنگ شدت اختیار کر گئی ہے، جہاں دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے پر کھل کر تنقید کی ہے۔

صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں پوپ لیو کو خارجہ پالیسی کے حوالے سے “انتہائی خراب” قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ جرائم کے معاملے میں کمزور ہیں۔ انہوں نے مزید لکھا کہ پوپ کو “اپنا کردار درست کرنا چاہیے اور ایک عظیم مذہبی پیشوا بننے پر توجہ دینی چاہیے، نہ کہ سیاست دان بننے پر۔”

ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب پوپ لیو حالیہ دنوں میں امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ اور امریکی امیگریشن پالیسیوں پر سخت تنقید کر رہے تھے۔

دوسری جانب پوپ لیو نے امریکی صدر کے بیان کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ جنگ کے خلاف اپنی آواز بلند کرتے رہیں گے اور انہیں امریکی حکومت سے کوئی خوف نہیں۔ انہوں نے کہاکہ “مجھے ٹرمپ انتظامیہ کا کوئی خوف نہیں ہے۔ جنگ کے خلاف بلند آواز میں بولتا رہوں گا، امن، مکالمے اور بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینے کی کوشش جاری رکھوں گا۔”

انہوں نے مزید کہاکہ “آج دنیا میں بہت زیادہ لوگ تکلیف میں ہیں، بے شمار بے گناہ افراد مارے جا رہے ہیں، اور کسی نہ کسی کو کھڑے ہو کر کہنا ہوگا کہ اس کا ایک بہتر حل موجود ہے۔”

پوپ لیو نے اس بات پر بھی زور دیا کہ وہ خود کو سیاست دان نہیں سمجھتے بلکہ ان کا پیغام امن، مکالمے اور انسانیت کی بھلائی پر مبنی ہے۔

ادھر سوشل میڈیا پر کیتھولک برادری سے تعلق رکھنے والے افراد نے ٹرمپ کے بیان پر شدید ردعمل دیا اور اسے چرچ کے سربراہ کے خلاف غیر معمولی اور سخت حملہ قرار دیا۔

یاد رہے کہ پوپ لیو، جو امریکہ سے تعلق رکھنے والے پہلے پوپ ہیں، حالیہ ہفتوں میں ایران سے متعلق جنگ کو “پاگل پن” قرار دے چکے ہیں اور اس کے خاتمے کے لیے سفارتی حل پر زور دیتے رہے ہیں۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں