تحریک لبیک پاکستان: خطرنا ک نام اورنعرے

چند سال قبل جب تحریک لبیک پاکستان کے نام سے سیاسی پارٹی کی نیو رکھی جا رہی تھی تو میں نے ایک تحریر میں اس پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا، کہ یہ نام سخت خطرنا ک ہے۔ ” تحریک لبیک یا رسول اللہ” کے نام سے بنی جماعت کو سیاسی پارٹی کے طور پر صرف اتنی ترمیم کے بعد رجسٹر کر لیا گیا کہ اسے تحریک لبیک یارسول اللہ کی بجائے تحریک لبیک پاکستان کہا جائے گا ۔ لیکن نام کی مذہبی حساسیت لفظ لبیک کو موجود رکھنے کی وجہ سے جوں کی توں باقی تھی ۔ ہمیں پہلے ہی نظر آرہا تھا کہ لفظ پاکستان کو کس نے دیکھنا ہے، عملاً لبیک یارسول اللہ ہی چلے گا، اور یہی ہوا اور یہی ہو رہا ہے۔ہمارے پاکستانی سماجی عرف میں لبیک پاکستان کی کوئی حیثیت نہیں تھی، اصل چارج کرنے والی چیز مذہبی نعرہ لبیک یارسول اللہ تھا۔چنانچہ پارٹی کے جلسوں ، احتجاجوں وغیرہ میں ہمیشہ اسی نعرے کے ذریعے مذہبی جذبہ ابھارا گیا ، جس سے عوامی مذہبی احساسات کو سیاسی طاقت میں تبدیل کرنے کا سامان پیدا ہوا۔

یہ بات کبھی نہ بھولنا چاہیے کہ “لبیک یا رسول اللہ ﷺ” ہمارے معاشرے کے لحاظ سے انتہائی مذہبی تقدس کا حامل نعرہ ہے، جو ایمان، محبتِ رسول اور غیرتِ ایمانی کی علامت ہے۔ عام پاکستانی بالعموم اور بریلویانہ ماینڈ سیٹ کی حامل عام نیم خواندہ اور دیہاتی مذہبی عوام اس کی بنیاد پر مر مٹنے کو تیار ہوتی ہے۔اس مذہبی طبقے کے نوجوان ، جب “لبیک یا رسول اللہ ﷺ” کا نعرہ سنتے ہیں تو وہ سمجھتے ہیں کہ اس جماعت کے ساتھ کھڑا ہونا گویا ایمان کا تقاضا ہے۔ یوں ایک سیاسی وابستگی دینی فریضہ کی شکل اختیار کر لیتی ہے اور اس نعرے کی حامل مذہبی جماعت مذہبی تقدس کی حامل بن جاتی ہے۔ اس تناظر میں عوام میں یہ تاثر پیدا کیا جاتا ہے یا مذہب اور آں جناب ﷺ سے عووام کی جذباتی محبت کے تناظر میں خود بخود پیدا ہوجاتا ہے کہ صرف اسی جماعت کے کارکن اور رہنما حضور ﷺ کے غلام اور ناموسِ رسالت کے محافظ ہیں، جب کہ باقی سب یا طاغوت ہیں یا نام کے مسلمان ، جن کے خلاف کھڑے ہونا گویا ظلم اور کفر کے خلاف کھڑے ہونا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ احتجاجوں وغیرہ میں یہ نعرہ ٹی ایل پی کی پہچان بھی ہے، اور نوجوانوں کو چارج رکھنے کے لیے ہر وقت لگایا بھی جاتا ہے۔ یہ نعرہ عوام کو انگیج کرتا، انھیں مذہبی طور پر جذباتی بناتا اور احتجاج کے ماحول کو مقدس رنگ دے کر پر جوش اور گرم رکھتا ہے۔

مذہبی طور پر چارج اس نوعیت کا ہجوم جب اس طرح کے مذہبی نشے سے سرشار ہوتا ہے تو پھر کسی کو خاطر میں نہیں لاتا، وہ سمجھتا ہے، وہ حق کے راستے پرنکلا ہے، جہاں یا تو وہ اپنے مقصدِاحتجاج میں کامیاب ہوگا اور سامنے والوں یا مخالفین کو دھول چٹائے گا، یہ اس راستے میں جان دے کر جنت میں حضورﷺ کا قرب حاصل کر لے گا۔ ایسے ہجوم اور اس کے لیڈروں کے لیےپولیس، فوج یا دیگر مذہبی طبقے کے مسلمان، جو اس جماعت سے اختلاف رکھتے ہیں، ان پر” گستاخی” یا “بے دینی” کا لیبل لگانا اپنے یا پارٹی کارکنوں کو یہ باور کرانا کہ اس پارٹی کا ساتھ نہ دینے والے دین کے مخالف اور دشمن ہیں ، نہایت آسان ہو جاتا ہے۔ پارٹی کارکن اور لیڈر احتجاجی ریلیوں میں عام کہتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ دیکھو حضور ﷺ کے غلاموں کے ساتھ یہ اور وہ کیا جارہا ہے، جس سے واضح پیغام یہی دیا جا رہا ہوتا ہے کہ اس پارٹی کے کارکن تو حضصورﷺ کے غلام ہیں، لیکن دوسرے لوگ یا تو دین کے دشمن ہیں یا محض نام نہاد مسلمان۔ اور یہی وہ چیز ہے جس کے بارے میں نے بار بار عرض کیا ہے کہ انتہائی خطرناک اور فتنہ انگیز ہے۔

بنا بریں ایک مذہبی نعرے یا اس سے ملتے جلتے نام کے ساتھ کسی گروہ کو سیاسی پارٹی کے طور پر رجسٹر کرنا ، خطرناک ہے اور ٹی ایل پی کے معاملے میں اس کی حساسیت کو نظر انداز کرنا متعلقہ فورم کی بصیرت پر بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔ریاست کو اگر عوام کو مذہبی استحصال سے بچانا ہے تو اسے یقینی بنانا ہوگا کہ کوئی سیاسی یا مذہبی گروہ کسی مقدس نعرے، اصطلاح یا دینی علامت کو اپنے سیاسی نشان یا نام کے طور پر استعمال نہ کرے؛مذہبی نعروں کے سیاسی استعمال کے خلاف قانون سازی کی جائے۔ ایسی جو جماعتیں پہلے سے موجود ہیں، ان کے نام اور نعروں پر نظرِ ثانی کی جائے تاکہ عوام اپنے مذہبی جذبات کے استحصال سے بچ سکیں ۔
جہاں تک تحریک لبیک کا تعلق ہے اس حوالے سے میری تجویز ہے کہ ایک تو تحریک لبیک پاکستان کے نام میں “لبیک ” کا لفظ تبدیل کیا جائے، اور دوسرے اس کے لیے “لبیک یا رسول اللہ ﷺ” ایسے مقدس نعرے کے سیاسی استعمال پر مکمل پابندی لگائی جائے۔

“لبیک یا رسول اللہ ﷺ” ہر مسلمان کا نعرہ ہے، لیکن جب کوئی گروہ اسے اپنی سیاسی پہچان بنائے تو یہ دین نہیں بلکہ مذہبی سیاست بن جاتی ہے۔ ریاستِ پاکستان کو چاہیے کہ وہ اس رحجان کا نوٹس لے اور ایسے نعروں کے سیاسی استعمال پر قانونی و اخلاقی پابندی عائد کرے۔ یہی دین کا احترام اور قومی یکجہتی کا تقاضا ہے۔
نبی کریم ﷺ کی سیرت ہمیں نفرت نہیں، بلکہ محبت، برداشت اور حکمت سکھاتی ہے۔ کسی گروہ یا جماعت کو یہ حق نہیں کہ وہ پیغمبر ﷺ کے نام کو اپنے سیاسی مفادات کے غلاف میں لپیٹ کر عوامی جذبات کو بھڑکائے۔ عشقِ رسول ﷺ کی اصل علامت یہ ہے کہ ہم ان کی تعلیمات پر عمل کریں، نہ کہ ان کے مقدس نام کو عوامی تصادم کے لیے استعمال کریں۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں