بیلاروس: وزیراعظم پاکستان کی ایوان آزادی آمد پر پرتپاک استقبال، مختلف شعبوں میں معاہدے

بیلاروس کے سرکاری دورے پر پہنچنے والے وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف کا دارالحکومت منسک میں سرکاری ایوانِ آزادی آمد پر پرتپاک استقبال کیا گیا، جہاں بیلاروس کی مسلح افواج نے انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا۔

بیلاروس کے صدر، الیگزینڈر لوکاشینکو نے وزیراعظم شہباز شریف کا خود استقبال کیا۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان گرمجوش مصافحہ ہوا، اس موقع پر دونوں ممالک کے قومی ترانے بجائے گئے اور روایتی فوجی سلامی دی گئی۔ وزیراعظم نے گارڈ آف آنر کا معائنہ کیا اور اپنے وفد کے ارکان کا تعارف صدر بیلاروس سے کرایا، جس کے جواب میں صدر لوکاشینکو نے بھی اپنی کابینہ کے اہم ارکان کا تعارف کروایا۔
وزیراعظم کے دورے کے دوران پاکستان اور بیلاروس کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے سے متعلق کئی اہم معاہدے اور مفاہمت کی یادداشتیں طے پائیں۔وزارتِ دفاع پاکستان اور بیلاروس کی وزارتِ دفاع کے مابین فوجی تعاون کا معاہدہ طے پایا۔بیلاروس کی فوجی صنعت کی اسٹیٹ اتھارٹی اور پاکستان کی وزارتِ دفاعی پیداوار کے درمیان فوجی تکنیکی تعاون کا تین سالہ روڈ میپ (2025-2027) طے ہوا۔دونوں ممالک نے ری ایڈمیشن معاہدے پر بھی دستخط کیے، جو غیر قانونی ہجرت سے متعلق ہے۔پاکستان پوسٹ اور بیلاروس پوسٹ کے درمیان پوسٹل آئٹمز کے تبادلے کا معاہدہ ہوا۔ بیلاروس کے ایوانِ صنعت و تجارت اور ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (TDAP) کے مابین بھی تعاون کا معاہدہ طے پایا۔
اس کے علاوہ فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (FWO) اور بیلاروس کی دو کمپنیوں ، جے ایس سی ایم کوڈور اور او جے ایس سی ماز کے درمیان بھی باہمی تعاون سے متعلق یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔

بعد ازاں ،مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر الیگزینڈر لوکاشینکو نے کہا کہ، پاکستان کے ساتھ تعلقات کو بیلاروس نہایت اہمیت دیتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ، شہباز شریف کا دورہ دو طرفہ تعلقات کو ایک نئی سمت دے گا۔ انہوں نے کہا کہ، دونوں ممالک کے درمیان بزنس فورم باہمی تجارت کو وسعت دینے کے لیے کلیدی کردار ادا کرے گا۔
وزیراعظم پاکستان نے اس موقع پر کہا کہ، بیلاروس کے صدر کا 2015 کا دورہ پاکستان دوستی کے نئے باب کا آغاز ثابت ہوا۔ انہوں نے صدر لوکاشینکو کی قیادت میں بیلاروس کی ترقی کی تعریف کی اور کہا کہ، پاکستان میں سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع موجود ہیں جن سے بیلاروس کی کمپنیاں بھرپور فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔
وزیرِاعظم نے زور دیا کہ، دونوں ممالک کو زرعی و صنعتی شعبوں میں ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ کرنا چاہیے۔ انہوں نے اس بات پر بھی اطمینان کا اظہار کیا کہ، بیلاروس میں مقیم پاکستانی ملک کی ترقی میں اپنا بھرپور کردار ادا کر رہے ہیں۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں