اسلام آباد میں منعقدہ ایک خصوصی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے کہا کہ، پاکستان کو اگر عالمی سطح پر اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کرنا ہے تو اس کے لیے ضروری ہے کہ، نوجوانوں کو ترقی کے مواقع دیے جائیں۔ یہ تقریب ایک ہزار زرعی گریجویٹس کو چین میں جدید زرعی تربیت دلوانے کے منصوبے کے تحت منعقد کی گئی تھی، جس کے پہلے مرحلے میں 300 طلبہ چین روانہ ہو رہے ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ، زراعت پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے اور اس شعبے کو جدید بنانے کے لیے نوجوانوں کو عالمی سطح کی مہارت دینی ہوگی۔ انہوں نے زور دیا کہ، زرعی تحقیقی اداروں کو فعال کرنا اور زرعی جامعات کو نئی زندگی دینا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے، تاکہ تعلیم یافتہ نوجوان کھیتوں میں جدید انداز سے کام کر کے پیداوار میں انقلاب برپا کریں۔
انہوں نے نوجوانوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ، ملک کی نظریں آپ پر ہیں۔ کچھ نوجوان تعلیم مکمل کرنے کے بعد کھیتی باڑی کو نظرانداز کرتے ہیں، کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ، یہ کام ان کے شایانِ شان نہیں، لیکن میں کہتا ہوں کہ آپ تعلیم یافتہ بن کر صرف نوکری کے خواہشمند نہ بنیں بلکہ دیہی علاقوں میں جا کر زرعی کاروبار کی بنیاد رکھیں۔
وزیراعظم نے یقین دہانی کروائی کہ، حکومت ایسے نوجوانوں کو سبسڈی پر قرضے فراہم کرے گی، وسائل مہیا کرے گی اور انہیں زراعت میں کاروباری مواقع فراہم کیے جائیں گے، تاکہ وہ ویلیو ایڈڈ مصنوعات تیار کر کے نہ صرف ملکی معیشت کو فائدہ پہنچائیں، بلکہ زرعی برآمدات میں بھی اضافہ کریں۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ، چین جانے والے یہ طلبہ زراعت سے جڑے ان شعبوں میں تربیت حاصل کریں گے جو موسمیاتی تبدیلیوں جیسے نئے چیلنجز سے ہم آہنگ ہیں۔ وہ چین کی جدید زرعی ٹیکنالوجی، طریقہ کار اور کامیاب ماڈلز سے سیکھ کر پاکستان واپس آئیں گے اور یہاں کی زرعی دنیا میں مثبت تبدیلیاں لائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ،پاکستان کی ترقی اس وقت ممکن ہے جب چاروں صوبے اور تمام اکائیاں مل کر آگے بڑھیں۔ اگر چند صوبے ترقی کر جائیں اور باقی پیچھے رہ جائیں تو اسے ہم مجموعی قومی ترقی نہیں کہہ سکتے۔
وزیراعظم نے اپنے چین کے حالیہ دورے کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ، صدر شی جن پنگ کے آبائی علاقے میں واقع ایک زرعی یونیورسٹی کے دورے نے انہیں بے حد متاثر کیا۔ وہاں جدید سہولتیں اور تحقیقی سرگرمیاں دیکھ کر میں نے فوری فیصلہ کیا کہ، پاکستانی نوجوانوں کو بھی ایسی تربیت حاصل کرنے کا موقع ملنا چاہیے۔ اس سلسلے میں میں چینی قیادت کا شکر گزار ہوں جنہوں نے اس منصوبے کی منظوری دی۔
شہباز شریف نے یہ بھی واضح کیا کہ، ماضی میں تربیتی پروگراموں میں بڑی عمر کے سرکاری افسران کو بھیجا جاتا رہا ہے، لیکن اب وقت آ گیا ہے کہ، نوجوانوں کو ترجیح دی جائے، کیونکہ وہی ملک کے مستقبل کے معمار ہیں۔ افسران کی تربیت اپنی جگہ، لیکن یہ کام نوجوانوں کا ہے، اور ہم نے انہیں وہ موقع دیا ہے۔
وزیراعظم نے بتایا کہ، چین جانے والے طلبہ کا انتخاب مکمل طور پر میرٹ کی بنیاد پر کیا گیا ہے، جس کی تصدیق تقریب میں موجود طلبہ نے زوردار تالیاں بجا کر کی۔ انہوں نے کہا کہ ،اس پروگرام میں ملک کے تمام صوبوں، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے طلبہ شامل ہیں، جبکہ بلوچستان کے لیے کوٹہ 10 فیصد بڑھایا گیا ہے۔ جب میں وزیراعلیٰ پنجاب تھا تب بھی بلوچستان کے طلبہ کے لیے اضافی کوٹہ رکھا تھا، اور اسی روایت کو ہم نے یہاں بھی برقرار رکھا ہے۔